نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 304 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 304

دیکھو برہمنوں نے جنہوں نے ویدوں کی شرح لکھی ہے اپنے حقوق کو کیسامستثنیٰ کیاہے بلکہ یوں کہیں کہ وید نے ہی مستثنیٰ کیاہو۔اگر کہوکہ ان کے علم وہنر و فضل نے یہ امتیاز ان کو بخشاہے تو مسلمان اپنے رسول کو بہت بڑا عظیم الشان اور بے نظیر انسان مانتے ہیں پھر وہ کیوں ممتاز نہ مانے جائیں۔سوال نمبر ۱۰۷۔ـ اے رسول ہم تم کوخبریں غیب کی سناتے ہیں۔حالانکہ یہ قصہ ہائے بائبل میںموجود ہیں۔ان میںغیب اور وحی کی کیا ضرورت تھی۔الجواب:(دیکھ سورۃ ہود)عقل مند انسان۔پال !یہ آیت شریفہ جس پر تیرا اعتراض ہے اس کے پہلے یہ ذکر ہے۔ (ہود:۳،۴) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی پرستش مت کرو،بے ریب میں تمھارے لیے ہوں ڈرانے والا اور بشارت دینے والااور یہ کہ عفو مانگواپنے رب سے اور حفاظت طلب کروپھر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔مخالفت پر بتاتا ہوںکہ تم پر میری مخالفت کا وبال آئے گااور ناکام رہو گے اور موافقت پر تمہیں بشارت اور خوشخبری سناتا ہوں۔پھر اس وعظ امید وبیم کے بعد فرماتا ہے۔(ہود :۴) یعنی اگر تم منہ پھیرو گے تو بے ریب میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے۔پھر حضرت نبی کریم ﷺ کے مخالفو ں کی شرارتوںکا ذکر کیا ہے جو آپ کے مقابلہ میں کرتے رہے۔پھر عظمت الٰہیہ کا بیان ہے۔پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے تو منکر مہلت پر بھی ہنسی کرتے ہیں۔پھر عام انسانی حا لت کاتذکرہ کیا۔پھر بتایا ہے کہ علی العموم انسانی محنت اگر دنیا کے لئے ہو تو انسان کو دنیا میں فائدہ ہوتاہے مگر تیرے مقابلہ میں ان کی محنتیں بیکار ہیں۔پھر فرمایاجو شخص ہو کھلے عظیم الشان نشان پر اپنے رب کی طرف سے اور اس کے ساتھ ہو ایک