نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 209

آپ نے انہی وجوہ سے زیب تن فرمائی ہے۔!!! سوال نمبر ۵۶۔’’طیراً ابابیل۔کجا ہاتھی اور کجا کرم خور جانور‘‘۔الجواب۔قبل اس کے کہ ہم آپ کو اس سوال کا جواب دیں ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ کے سوال میں جو الفاظ آئے ہیں ا ن کے معانی بتلائیں۔پہلا لفظ کَیْد ہے کید کے معنی مفصل ہم نے سوال نمبر ۲میں لکھ دئیے ہیں مگر یہاں یاد رہے کہ کید کے معنے لڑائی کے ہیں۔دوسرا لفظ تضلیلہے۔تضلیل کے معنی باطل کرنے اور اہلاک کے ہیں۔تیسرا لفظ ابابیل ہے ابابیل جمع ہے ابّیل اور ابوّل کی۔ابّیل اور ابوّل کے معنی جماعت کے ہیں ابابیل کے معنی ہوئے بہت سی جماعتیں۔ہماری زبان میں ترجمہ ہوا ڈاروں کی ڈار۔چنانچہ لسان العرب میں لکھا ہے قال الزجاج فی قولہ تعالٰی طیرا ابابیل جماعات من ھٰھنا جماعات من ھٰھنا۔و قیل یتبع بعضھا بعضاً ابّیلا ابّیلا ای قطیعا خلف قطیع۔دوسرا سوال اس کے بعد یہ پیش آتا ہے کہ دشمن کی فوج کی ہلاکت کو جانوروں سے کیا تعلق ہے۔سواس کے واسطے سام وید فصل نمبر ۳پرپاٹیک نمبر۱کی عبارت دیکھو۔اس میں لکھا ہے (۱)کوّوں اور مضبوط بازو والوں پرندوں کو ان کے تعاقب میں بھیج۔ہاں تو اس فوج کو کرگسوں کی غذا بنا۔اے اندر ! ایسا کر کہ کوئی ان میں سے نہ بچے کوئی نیک بھی نہ بچے ان کے پیچھے تو تعاقب کرنے والے پرندوں کو جمع کردے۔پھر سام وید فصل دوم پر پاٹیک نمبر۳میں یوں ہے۔اے روشن اشاس جب تیرے وقت رجوع کرتے ہیں تو کل چوپائے اور دریاؤں والے حرکت کرتے ہیں اور تیرے گرد بازووالے پرندے آسمان کی تمام حدود سے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔عربی میں بھی ایسے محاورات بکثرت ہیں اور انہی معنوں اور استعاروں میں پرندوں کے الفاظ وہاں مستعمل ہوتے ہیں چنانچہ النابغۃ الذبیانی کا شعر ہے۔