نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 208 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 208

قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے قصہ میں یہ الفاظ کس قدر وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کا سفر بادی جہازوں کے ذریعہ ہوتا تھا چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(صٓ :۳۷) ہم نے ہوا کو اس کے کام میں لگایا وہ اس کے حالات اور مقاصد کے موافق چلتی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے جہازوں کے سفر میں باد موافق چلاکر تی تھی اور اس کے سفر کامیابی اور شادکامی کو ہمراہ لئے ہوتی تھی اور جیسا کہ ا ٓج کل یورپ کے سٹیمر باوجود قسم قسم کے بچاؤ کی تدابیر کے ا ٓئے دن سمند ر کی خونخوار موجوں کے لقمہ تر بنتے ہیں حضرت سلیمان کو اس کے خلاف کبھی تباہی پیش نہیں آئی۔ایسے صاف واقعہ پر اعتراض کرنا اور لنکا سے ایودھیا تک بیلون کے سفر کو تسلیم کرنا کوئی رشید ہے کہ اس قوم کے ظلم عظیم کی داد دے!اپنی مطلب براری کے وقت دعاوی بے دلیل اور توجیہات رکیکہ اور النکاراور اپادہیان صنائع بدائع اور استعارات میں پناہ ڈھونڈنی اور دوسروں پر اعتراض اور ظلم کرتے وقت جو مونہہ میں آئے کہتے چلے جاویں خدا تم کو راہ نمائی کرے۔سوال نمبر ۵۵۔شہد کی مکھی کو بھی وحی ہوئی۔الجواب۔کلما القیتہ الی غیرک فھو وحی۔جو بات کسی کو پہنچائی جاوے وہ وحی ہے۔قرآن کریم میں یہ لفظ عام ہے حتیٰ کہ زمین کی نسبت بھی فرمایا ہے کہ اسے وحی ہوتی ہے چنانچہ فرمایا ہے۔(الزلزال :۵،۶) اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی۔ہاں انبیاء اور رسل کی وحی او ر چیز ہے اس وحی کے ذریعہ الٰہی علوم اور سچے حقائق اور پاک تعلیمات کا فیضان جہان کو ہوتا ہے۔غرض ہر ایک شئے کو اس کی استطاعت اور قویٰ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے اور یہ بات قانون قدرت کے مشاہدہ سے عیاں ہے۔آفرین اے نکتہ چین تیر ی عقل ودانش پر ! ایسی صاف اور موٹی باتیں اور ان پر اعتراض۔ارتداد کی خلعت