نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 210

اذا ما غزا بالجیش حلق فوقھم عصائب طیر تھتذی بعصائب جب وہ لشکر لے کر دشمنوں پر چڑھتا تو پرندوں کے غولوں کے غول دشمنوں کے لاشوں کے کھانے کو جمع ہوجاتے ہیں۔ایک مولوی صاحب نے اس موقعہ پر ایک شعر لطیف لکھا ہے وہ ہمارے جواب کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتا ہے گو مولوی صاحب نے اس کے معنی کچھ ہی کئے ہوں مگر وہ ہماری وہ ذکرکردہ دلیل کا ہی مثبت ہے اور وہ شعر یہ ہے۔این المفر لمن عاداہ من یدہ والوحش والطیر اتباع تسائرہ یہاں طیر سے مراد وہی مردار خور پرندے ہیں اور سباع بھی وہی مردار خور ہیں جو فتح مندی کا نشان ہیں۔اسی قسم کے انداز بیان میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اشارہ کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دشمن ہلاک کئے جاویں گے جیسے فرماتا ہے۔(النحل :۸۰)کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے جنہیں ہم نے آسمان کے جوّ میں قابو کر رکھا ہے ہم ہی نے تو انہیں تھام رکھا ہے (اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریم کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے۔)مومنوں کے لئے ان باتوں میں نشان ہیں۔یہا ں بھی پہلے ایک شریرقوم کا بیان کیاہے جو بڑی نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی اور اسلام کو عیب لگاتی تھی اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکہ پر انہوں نے چڑھائی کی۔یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا جس نے اسی سال مکہ معظمہ پر چڑھائی کی جب کہ حضرت رحمۃ للعالمین نبی کریم ؐ پیدا ہوئے۔جب یہ شخص وادی محصّرمیں پہنچا اس نے عمائد مکہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معزز آدمی کو بھیجو۔تب اہل مکہ نے عبدالمطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم ﷺ کے دادا تھے