نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 110

بھی قول کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے حوض جب پانی سے بھر گیا تو اس نے کہا اب بس کرو۔پرندوں نے اسے کہا اقبال مندی سے آگے بڑھو۔غرض جب لفظ قال اتنے بڑے وسیع معنوں پر بولا جاتا ہے تو کس قدر ضروری امر ہے کہ ہر موقع و محل کے مناسب اس کے معنے کئے جائیں۔شیطان ایک کافر۔متکبر۔احکام الٰہی سے منکر خبیث روح ہے۔حسد وبغض سے اس نے آدم جیسے راست باز کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بھی بدی کو منسوب کر دیا اور بے باکی سے بدکلامی کی اور اسی طرح کی ناپاک زبان سے کام لیا جیسا کہ تم نے۔اور ہم انشاء اللہ تمہاری گالیوںکی فہرست میں دکھائیں گے اور تمہیں خدا تعالیٰ نے باایں ہمہ ڈھیل دے رکھی ہے اور اغوا کی مہلت دی ہے۔چنانچہ تم نے یہ رسالہ شائع کیا اور ایک وقت معلوم تک تم اس اغوا کی کوشش میں لگے رہو گے۔اسی طرح خدا نے اس راستی کے دشمن کو بھی ایک وقت معلوم تک مہلت دی۔یہ ایسا صاف نظارہ ہے کہ اسے ہر ایک دانش مند اس جہاں میں آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اپنے برتاؤ سے اس کی صداقت کی شہادت دے رہاہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم مسلمان نیکی کے محرک کو (تم کچھ نام رکھو)ملک یا فرشتہ کہتے ہیں اور بدی کے محرک کو شیطان وابلیس۔ان معنوں کے لحاظ سے ملک وابلیس کا کون منکر ہو سکتا ہے؟یہ پختہ اور یقینی بات ہے کہ جہاں قرآن کریم نے شیطان وابلیس کا ذکر کیا ہے وہاں انہیں اسروں اور بدی کے محرکوں سے مراد ہے۔ان واقعات پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے قانون قدرت اور اس کے نظام کی نکتہ چینی کرنا ہے۔سوال نمبر ۱۳ ’’خدا مسخرہ۔مخولیا۔ٹھٹھول۔بھنگڑ۔بھنگیوں میںا ٓکودتاہے بھنگر پن شروع کر دیتا ہے‘‘ الجواب۔لعنت اس گندہ د ہنی پر۔کیا یہ انصاف ہے ؟ آہ !کاش تم لوگ آدمیت کو اختیار کرتے اور حق کے سچے طالب بنتے۔کیا آپ کے نیم نمبر۴ کا یہ عمل درآمد ہے جس میں لکھا ہے:۔’’ست کے گرہن کرنے اور اَسَت کے چھوڑنے میں سرودادت رہنا چاہیے‘‘