نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 109

تاریکی کے فرزند کے القاب ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل۔رحمت۔قدرت اور تصرف سے ہرجگہ موجود ہے اور شریر جس قدر بکواس کرتا ہے وہ سب خدا کے سامنے کرتاہے اور رُو در رُو کرتا ہے کہ گویا اس سے بالمشافہ جنگ کرتا ہے۔کیا تم نے جو بدکلامی رسالہ ترک اسلام میں کی ہے کہیں خدا سے مخفی اور خدا کے بندوں سے مخفی کی ہے۔ہوبہو یہی بات ہے جو قرآن کے اندر شیطان وابلیس کے متعلق بیان ہوئی ہے۔اس کا مطلب صاف ہے کہ اس نے خدا کے بندوں سے جو شرارت اور جنگ کی ان سے نہیں کی بلکہ خود خدا سے بالمواجہہ تکرار اور جنگ کی۔قال کے لفظ سے یہ سمجھنا کہ شیطان نے خدا سے بالمشافہ مکالمہ کیا سخت غلط بات ہے۔قرآن کریم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے مکالمہ سے وہی لوگ شرف اندوز ہوتے ہیں جو خدا کی نگاہ میں پاک وصاف ہوتے ہیں۔پھر شیطان جیسی نجس ذات کا یہ رتبہ کہاں کہ اسے خدا کی ہم کلامی کی عزت ملے۔سارے قرآن میں کَلَّمَ تَکْلِِیْماً کا کوئی صیغہ شیطان کے کلام کے بارہ میں مذکور نہیں ہوا۔اصل بات یہ ہے کہ لفظ قال عربی کی زبان میں ہر ایک بات اور کام اور اشارہ اور زبان حال پر بولا جاتاہے۔چنانچہ عربی کی لغت میںلکھاہے۔العرب تجعل القول عبارۃ عن جمیع الافعال قالت لہ العینان سمعاً وطاعۃ۔قالوا صدق واوماؤا برؤسھم۔قالت السماء جادت والنسکبت۔ویقال للمتصور فی النفس قبل التلفظ۔فیقال فی نفسی قول لم اظھرہ۔والاعتقاد یقال فلان یقول بقول الشافعی۔ویقال للدلالۃ علی الشئی۔امتلاء الحوض فقال قطنی۔قالت لہ الطیر تقدم راشداً۔یعنی قول تمام افعال پر بولا جاتا ہے۔اس کی آنکھوں نے کہا کہ ہم سنتے اور مانتے ہیں۔صحابہ نے کہا سچ کہتاہے اور یہ بات سر کے اشارہ سے کہی۔بادل نے کہا۔کیا معنے ؟برسا قال اس خیال پر بھی بولا جاتاہے جو ابھی تلفظ میں نہیں آیا۔کہا جاتاہے میرے دل میں بات ہے جس کو میں نے ظاہر نہیں کیا۔فلانا اعتقاد کرتا ہے شافعی کا اعتقاد۔قول کے معنے اعتقاد کے ہوئے۔علی العموم دلالت کو