نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 111

میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسے اسماء صفاتیہ ہرگز ہرگز ہرگزقرآن مجید میں نہیں اور میں خود یقین کرتا ہوں کہ اتنے بڑے جھوٹ سے جو تمہارے ہمالہ سے بھی بڑاہے تم اسلام کو جیت نہیں سکو گے۔تم اس گندے طریق سے جیتنا چاہتے ہو اور یہی تمہاری ہلاکت کا موجب ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ۔طاعون تمہارے گوجرانوالہ کے علاقہ میں آیا مگر تم کو اب تک اس سے نصیحت نہیں ملی۔تمہارے بدلگام آریہ مسافر نے جو ناکامی دیکھی اس نے تم کو کچھ سبق نہ دیا۔سنو بدبخت !دیانند نے وید کی نرالی اور گھنونی بات کے سیدھا کرنے کے لئے استعارہ اور مجاز کا دروازہ کھولا اور بڑے زور سے یہ دعویٰ کیا اور لوگوں کو سکھایا کہ وید کے بہت سارے الفاظ کو استعارہ سمجھنا چاہیے۔ایسے ایسے گندے الفاظ وید کے جن کا ذکر ہم دیباچہ میں کریں گے اور وہ الفاظ جنہیں دام مارگیوں اور سناتن دہرمیوں نے ان کے ظاہر پر انہیں حمل کیا اور بت پرستی اورلنگ پرستی اور بھگ پرستی کے ثبوت وید سے نکالے۔ماں سے،بہن سے،بیٹی سے بھوگ کرنے کے ثبوت وید سے نکالے اور اب تک کروڑوں ہندو صدق دل سے وید کی اس تعلیم پر ایمان رکھتے ہیںاور اس کے مطابق عمل درآمد کرتے ہیں مگر دیانند نے ان سب الفاظ کو النکار یعنی استعارہ قرار دے کر شرمناک داغ سے وید کوبچانے کی کوشش کی۔دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے سے قبل کیاضروری نہ تھا کہ آریہ اپنے گرو کی چال کو اپنا رہنما بناتے۔سنو ! قرآن کریم تمہاری ناپاک زبان درازی سے کس قدر پاک ہے اور اصل حقیقت ان الفاظ کی کیا ہے اور تمہارے بدزبان حملہ آورں سے صدیوں پہلے قرآن کی لغتیں ان الفاظ کے کیا معنے کرتی ہیں؟ لیکن اس کے مقابل وید کے الفاظ کے کھینچ تان کے ثبوت میں دیانند کے پاس لغات کے ایسے کھلے ثبوت نہیں۔۱۔ذکر حجۃ الاسلام الغزالی۔ان الاستھزاء۔الاستحقار والاستھانۃ والتنّبیہ علی العیوب والنقائص علی وجہ یضحک منہ۱۲۔روح المعانی۔تحقیر کو استہزا کہتے ہیں۔۲۔الھزأۃ۔اصلہ الخفۃ و ھو القتل السریع۔ھزأ۔یھزأ۔مات فجائۃ۔و تھزأ بہ ناقہ