نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 42

مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔مگر آخر وہ یہود عرب سے جلا وطن کئے گئے۔ان کا نام بنو نضیر اور بنو قینقاع تھا اور قوم قریظہ کے یہود بالغ سب کے سب مارے گئے۔دیکھو دنیوی خبر اور اخروی خبر دو خبریں تھیں اور ان کے مقابلہ میں دو واقعات تھے۔جن کے متعلق وہ خبریں تھیں۔ایک خبر نے اپنے واقعہ کے ساتھ صداقت کی مہر لگا دی ہے کہ دوسری خبر عذاب قیامت بھی اپنے واقعہ کو ضرور لائے گی۔۲۔دوسری دلیل۔ (المؤمن: ۵۲) ترجمہ۔ہم اپنے مرسلوں اور کامل مومنوں کو جو ہمارے کہے پر چلتے اور ہمیں مانتے ہیں نصرت و امداد و تائید دیتے رہے اور دیتے رہیں گے۔اس دنیا میں اور قیامت کے دن۔اب تمام ماموروں اور مرسلوں اور ان کے سچے ساتھ والوںکی تاریخ دیکھ ڈالو کس طرح بے کس وبے بس ،بے یاروغمگسار دنیامیں آتے ہیں۔مثلاً یوسف علیہ السلام کو دیکھو۔زبردست طاقت ور جماعت نے ان کے ساتھ کیا کیا مگر آخر یوسف علیہ السلام کامیاب اور وہ سب کے سب باہمہ عصبیت ناکام و نادم ہوئے۔ہمارے نبی کریم ﷺ کے دشمن کیسے زبردست تھے پھر کیسے نامراد ہلاک ہوئے۔تائید ونصرت مرسل کے بارے دو خبریں ہیں ایک دنیا میں تائید و نصرت کی دوسری بعد الموت کی۔ان دو میں سے ایک واقعہ نے دنیا میں اپنی خبرکے مطابق ظہور کیا۔پس اسی مناسبت سے دوسری خبر جو اسی کے ساتھ ہے اپنے واقعہ کے ساتھ ضرور ظہور پذیر ہو گی۔۳۔فرعون و موسیٰ علیہ السلام کے مابین جنگ ہو رہی ہے۔ایک طر ف ایک طاقتور بادشاہ ہے جو مدمقابل کو کہتاہے تو ہمارا نمک پروردہ اور تیری تمام قوم ہماری غلام ہے۔ان دونوں کے درمیان الٰہی نصرت کا وعدہ ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی شرارتوںسے محفوظ رہیں گے اور فرعونی بالکل غرق ہو کر عذاب آخرت کے مستحق ہوں گے۔