نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 41
کو بعد الموت ثابت کیا گیا ہے۔میں نے عرض کیا نہ مولانا!آپ ریاضی دان ہیں اس لئے میں ایک ریاضی کا مسئلہ عرض کرتاہوںجو مثبت قیامت ہے۔اربعہ متناسبہ کا قاعدہ رول آف تھری آپ کے یہاں اور عقلا کے سامنے مسلم اور صحیح ہے کہ نہیں؟ فرمایا کہ صحیح ہے۔میں نے عرض کیا کہ نیازمند یہی طریق ثبوت قیامت کا قرآن کریم سے حضور کے سامنے پیش کرتا ہوں اور بطور مثال چند آیات سنا تا ہوں۔سورہ بقرہ پہلے پارہ میں آتا ہے۔(البقرۃ:۸۶)ترجمہ:کیا اس تحریر کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ سے انکار ی ہوگئے ہو۔پس کوئی نہیں سزا اس کی جو ایسا کرے تم میں سے مگر یہ کہ ذلیل ہو اس دنیا میں اور قیامت کے دن بڑے عذاب کی طرف بھیجے جاویں گے اور اللہ غافل نہیں تمہاری کرتوتوں سے۔تفصیل۔مدینہ کے بارعب بنی اسرائیل اور یہود کو یہ خطاب ہے۔یہ لوگ مدینہ کے نواح میں خیبر فدک وغیرہ کے مالک تھے اوربڑے جاہ وحشم کی جماعت تھی۔نبی کریم ﷺ نے ان سے معاہدہ کیا تھا۔آخر ان بدعہدوں نے اس عہد نامہ کے بعض حصوں کی خلاف ورزی کی اور یہاں تک گستاخی میں بڑھے کہ استیصال اسلام کی دھمکیاں دیں۔ان کے متعلق یہ آیت قرآن کریم میں ہے۔اس میں دو خبریں دی ہیں۔اوّل: یہ کہ اس بد عہدی پر تم دنیا میں ذلیل ہو گے اور یہ امر بظاہر محال تھاکیونکہ ایک طرف کمزور قلیل جماعت اسلام کی اور مقابلہ میں یہ زبردست زمینوں کے مالک تجارتوں میں ممتاز۔دوسری خبر یہ ہے کہ قیامت میں تم پر عذاب ہو گا۔یہ دو اطلاعیں قبل از وقت دی گئیں۔پھر تیسری بات یہ ہے کہ وہ قوم بارعب صاحب جاہ و حشم مع تمام قبائل عرب کے جن کو احزاب کہتے ہیں