نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 43 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 43

(المؤمن:۴۶،۴۷)پھر دیکھ لو ان تینوں علو م نے کیسی زبردست قوت سے قیامت کو ثابت ومحکم کر دیاہے۔عمائدمنافقین مدینہ کو کہا کہ شرارتوں سے باز آجاؤ وَ اِلّا اس جہاں اور قیامت میں دکھ پاؤ گے جیسے آیت ذیل میں آیا ہے:(التوبۃ:۷۴) اب غور کرو کہ ان ناعاقبت اندیش لوگوںکی یہ خبر ہے کہ ان کو عذاب دیں گے اس دنیا میں اور ان کے لئے عذاب ہے آخرت میں۔پھر ایک اور خبر ہے کہ ان کا کوئی والی وارث یا دوست نہ ہوگا۔اور تیسری خبر ہے کہ ان کا کوئی مددگار نہ رہے گا۔پھر دیکھو یہ تینوں خبریں کس طرح اپنے وقوع کے ساتھ ہمیں دنیا میں نظر آگئیں۔جب یہ دونوں اپنی مناسبت سے صحیح ہو گئیں تو تیسرا علم جو انہیں کا مساوی ہے کیونکر صحیح نہ ہو گا کہ قیامت میں عذاب پاؤ گے۔اب بتاؤ کہ اس سے بڑھ کر دیانند نے مابعد الموت حالت کا کیا ثبوت دیاہے؟ ہاں البتہ قرآن اور اسلام یہ نہیںکہہ سکتے کہ آدمی کتّے ،بلے، سؤر اور درخت اور کیڑے مکوڑے بن جاتے ہیں اور نہیں کہہ سکتے کہ ایک مہاں پر لے آئے گی جس میں رات پڑجائے گی اور اللہ تعالیٰ (پرمیشور) اس وقت بالکل اپنی صفات یا اکثر صفات جزا و سزا و رحم، رزق وغیرہ سے معطل و بے کار ہو جائیں گے یا سوئیں گے اور لکھشمی ان کے پاؤں ملے گی۔اسلامی اصطلاح میں قیامت کے لفظ کے معنے تو بہت ہیں مگر مشہور یہ دو ہیں۔اول: من مات فقد قامت قیامتہ۔(احادیث کا فقرہ ہے)جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہو گئی۔دوم:ما بعدالموت حشر اجسادکے وقت جب سعید و شقی بالکل الگ الگ ہو جائیں گے اس کانام قیامت ہے۔مابعدالموت کوئی جیل خانہ نہیں اور وہ کوئی حوالات نہیں۔قبر میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ کاکام ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا : فاقبرہ کہ قبر میں اللہ تعالیٰ ہی داخل کرتا ہے اور وہ قبر جس میں اللہ تعالیٰ