نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 18

(النساء : ۲۴) حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور وہ تمہاری مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور تمہاری ساسیں اور وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں ان عورتوں سے جن سے تم نے جماع کیا اور اگر تم نے ان سے جماع نہیں کیا تو تم پر ان کے نکاح میں کوئی گناہ نہیں اور حرام کی گئیں تمہاری ان بیٹوں کی جوروئیں جو تمہاری پشت سے ہیں اور حرام کیا گیا تم پر ایک ہی وقت میں دو حقیقی بہنوں سے نکاح کرنا۔ہاں جو گزر چکا اسلام سے پہلے تو اللہ غفور رحیم ہے۔یہ احکام نکاح کے متعلق فرمائے۔پھر شادیوں میں نکاح کے بعد بڑے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اس لئے ارشادات ہیں۔اوّل: (النساء :۴) جو عورت تمہیں پسند آئے اس سے نکاح کرو۔دوم: (النساء:۴) اور اگر بے انصافی کا خوف ہو تو ایک ہی سے نکاح کرو۔سوم:(المائدۃ : ۶) نکاح سے یہ غرض ہو کہ تم پابندی میں رہنے والے ہو نہ مستی نکالنے والے اور نہ یارانہ کے طور پر عورتوں کو رکھنے والے۔چہارم:  (النساء :۲۰) اور جائز نہیں کہ تم اکراہ سے عورتوں کے وارث بن جاؤ۔