نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 19

پنجم: (البقرۃ:۲۳۲)(الطلاق:۷) اور ان کو ضرر دینے کے لئے مت روکو اور ان کو ضرر مت دو۔ششم: (النساء : ۳۵) اور نافرمان عورت کو پہلے وعظ کرو پھر اس کا بسترا الگ کر د و پھر ایک مار سے مارو۔ہفتم:(النساء :۳۶) اور پھر بھی پھوٹ رہے اور اصلاح نہ ہو تو دونوں خاندانوں کے چوہدریوں کو جمع کرو۔اگر میاں بیوی کا یا ان کا سچا ارادہ اصلاح کا ہو گا تو اللہ انہیں آپس میں موافق بنا دے گا۔ہشتم: اور آخر میںفرمایا: (النساء :۲۰) اور عورتوں سے نیک برتاؤ کرو اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ اس میں بڑی برکت اور خیر ڈال دے۔ہاں بے ریب افسوس ہے کہ ان احکام کی نگرانی کے لئے کوئی محکمہ نہیں اور مرد بادشاہ ہوتے رہے۔اس لئے انہوں نے بھی حقوق نسواں کا پلّہ کمزور رکھا۔آہ! ہزاروں عورتیں ہیں جن کو شریر لوگ نہ طلاق دیتے ہیں اور نہ آباد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے کلام کو ہنسی میں اوڑاتے یا ان پاک احکام کو ظلم کرنے کا آلہ بنار ہے ہیںاور ملّانے بلکہ ان کے پڑھے لکھے بھی حقوق نسواں کی آیات پر توجہ نہیں کرتے۔اسی طرح مفقود الخبر کی بی بی بھی تباہ ہوتی ہے۔حفظ نفس وتربیت اولاد پر فرمایا:(البقرۃ :۱۹۶) اپنے تئیں ہلاکت میں مت ڈالو َ(بنی اسرائیل: ۳۲) اپنی اولاد کو ہلاک مت کرو۔