نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 230
جن کے جسم سے روح کا تعلق الگ ہو جاتا ہے ان کی نسبت قرآن کا فرمان یہ ہے۔(البقرۃ :۲۹) اور (البقرۃ :۲۵۹) اس سے صاف ثابت ہوا کہ اس قسم کا زندہ کرنا تو صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور دوسرے انبیاء ورسول اور کاملین کے ہاتھ سے مردے زندہ ہوتے ہیں ان کی نسبت قرآن کریم میں ہے۔ (الانفال :۲۵) ایمان والو ! مان لو اللہ اور اس کے رسول کی بات کو جب وہ تمہیں بلائیں ایسی باتوں کے لئے کہ جس سے تمہیں زندہ کرے۔تیسرا۔بھان متیوں کا زندہ کرنا کہ وہ بازاروں میں رسیوں کے سانپ بنادیا کرتے ہیں۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نہ خدا تھے کہ ان کی طرف پہلی قسم کے زندہ کرنے کو منسوب کیا جاسکے اور نہ بھان متیوں کے بھائی تھے کہ ان کی طرف لہو اور تماشا کو نسبت دی جائے وہ رسول تھے اور یقینا خدا کے پیغمبر تھے ان کی طرف وہی بات منسوب ہو گی جو منہاج نبوت کے موافق اور انبیاء کی شان اور افعال کے مطابق ہو گی۔اس راہ کے لئے قرآن کریم امام اور رہبر ہے اس نے اس عظیم الشان رسول کی سنت سے جسے اس نے تمام جہاں کے لئے اسوئہ اور رسولوں کا نمونہ بنایا ہے یہ دکھا دیا ہے کہ انبیاء علیھم السلام کا مردوں کوزندہ کرنا کس رنگ کا ہوا کرتا ہے اس کے خلاف جو شخص حضرت مسیح کی طرف خدا کی مانند احیاء موتیٰ کو منسوب کرے وہ خدا کی کتاب کے انکار کا داغ اپنی پیشانی پر لگاتا ہے ایسا ہی قرآن نے قاعدہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اورکوئی خالق نہیں چنانچہ فرمایا ہے:(النحل :۲۱،۲۲) اللہ کے سوا جو لوگ معبود بنائے گئے ہیں ان کے معبود نہ ہو سکنے کا نشان یہ ہے کہ وہ کسی شیء کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔یہ تو خدا کی صفات کے بارے میں قول فیصل ہے کہ حقیقی خالق وہی ہے۔اب لفظ خلق جو وسیع