نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 229
کو بھول گئے۔بتاؤ اس میں بھونی ہوئی مچھلی اور اس کی زندگی کا ذکر کہاں ہے کیا تمہارا سفید جھوٹ ثابت نہیں ہوا۔اس میں تو اتنا ہی ذکر ہے کہ مچھلی ان کی یاد سے اتر گئی اور ندی میں چلی گئی اور یہ ان کے لئے مقرر نشان تھا کہ جہاں انھیں مچھلی کو بھول جانے کا واقعہ پیش آئے گا وہاں وہ مرد خداانہیں ملے گا۔سو ایسا ہی ہوا۔خدا تعالیٰ نے جو غیب سے انھیں ایک نشان دیا تھا وہ پورا ہوا۔یہ ایسے واقعات ہیں جو مردان خدا کی سوانح زندگی میں ملتے ہیں اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ ان سے سالکان منازل الٰہیہ کے قلوب وایمان تازہ ہوتے ہیں۔سوال نمبر ۶۷۔حضرت عیسیٰ مٹی کے کھلونے بناکر ان میں روح ڈال دیتا تھا۔الجواب۔قرآن کریم میں نہ تو کھلونے کا کوئی لفظ ہے نہ روح ڈالنے کا۔قرآن کریم میں صرف دو جگہ ایک ذکرہے (آل عمران :۵۰) میں مٹی سے پرندہ کیسی ایک چیز بناتا ہوں او ر پھر اس میں پھونک مارتا ہوں پھر وہ خدا کی اذن سے اڑنے لگتا ہے۔دوسرا مقام یہ ہے۔(المائدۃ :۱۱۱) جب تو مٹی سے پرندہ کیسی ایک چیز بناتامیری اذن سے اور اس میں پھونک مارتا پھر وہ اڑنے والا ہوجاتا میرے اذن سے۔اب بتاؤ یہاں کھلونے اور روح کا کون سا لفظ ہے کیا تمہارا صریح کذب نہیں اور کیا یہ بے ایمانی اور فریب سے لوگوں کو دھوکہ میں ڈالنے کی چال نہیں۔دوسرے سوال کے جواب میں اس کا حل پڑھو۔سوال نمبر۶۸۔حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔الجواب۔جب بیمار بہت ہی خطرناک حالت اور غشی کی شدت میں مبتلا ہو جاتا ہے یاسکتہ اور صرع کی ناامید کردینے والے دَوروں میں پکڑاجاتا ہے اس وقت راست بازوں کی دعائیں اس کو زندہ کر دیتی ہیں۔ہم نے ان نظاروں کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور یہی معنی مسیح کے احیاء کے ہیں۔اور سنو ! مردے تین قسم کے ہوتے ہیں اور ان کو تین ہی اشیاء زندہ کرتی ہیں ایک معمولی مردے