نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 162 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 162

جب دوسرا اس کا دفعیہ کرنا چاہے تو اسی پر واُرن آستر چھوڑ دے یعنی جیسے دشمن نے دشمن کی فوج پر اگنی ا ٓستر چھوڑ کر تباہ کرنا چاہا ویسے ہی اپنی فوج کی حفاظت کے لئے سنیاپتی (سردار فوج)واُرن آستر سے اگنی آستر کا دفعیہ کرے وہ ایسی اشیاء کے ملانے سے ہوتا ہے کہ جن کا دھواں ہوا کے مس ہوتے ہی بادل ہو کر جھٹ برسنے لگ جاوے اور آگ کو بجھا دیوے۔ایسے ہی ناگ پھانس یعنی جو دشمن پر چھوڑنے سے اس کے اعضاء کو جکڑ کر باندھ لیتا ہے۔ویسے ہی ایک موہن آستر یعنی ایسی نشیلی ۱؎ چیزیںڈالنے سے (بنایا جاوے کہ)جس کے دہوئیں کے لگنے سے دشمن کی سب فوج سو جائے یعنی بے ہو ش ہوجائے اسی طرح سب شستر آستر ہتھیار اوزار ہوتے تھے اور ایک تار سے یا شیشے سے یا کسی اورچیز سے بجلی پیدا کر کے دشمنوں کو ہلاک کرتے تھے۔اس کو بھی اگنی آستر نیزپاشو پتا ستر کہتے ہیں۔توپ اور بندوق یہ نام غیر ملک کی زبان کے ہیں۔سنسکرت اور آریہ ورت ملک کی بھاشہ کے نہیں۔البتہ جس کو غیر ملک والے توپ کہتے ہیں سنسکرت اور بھاشہ میں اس کا نام شتگھنی اور جس کو بندوق کہتے ہیں اس کو سنسکرت اور آریہ بھاشہ میں بھشنڈی کہتے ہیں۔جو سنسکرت ودیا نہیں پڑھے وے غلطی میں پڑ کر کچھ کا کچھ لکھتے اور کچھ کا کچھ بکتے ہیں اس کو دانا لوگ مان نہیں سکتے۔پانچواں نظارہ موت ایک شدنی اور ضروری بات ہے جو ذی روح کے واسطے لازمی ہے کوئی دوسرا اسے قتل کرے یا نہ کرے کیونکہ اسے دیالوکرپالو نے آخر ضرور مارنا ہے۔پس اگر جانور دوسرے کے قتل سے نہ ماراجاوے تو بھی اس کوایک مدت کے بعد قسم قسم کے دکھوںمیں مبتلا ہو کر آخر مرنا ہوگا اور اس کو جو بیماری میں کیڑے پڑیں گے وہ بھی آخر ہلاک ہوجائیں گے اور اس کے تعفن سے بہت سے ذی روحوں اور انسانوں کو شدیدتکلیف پہنچے گی۔پس کیا مناسب نہیں کہ جانوروں کو ان دکھوں سے بچانے کے لئے قتل کیا جائے اور پھر ان سے کوئی کام بھی لیا جائے قتل کا دکھ بہرحال عام بیماریوں