نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 163
سے بہت ہی تھوڑاہے کیونکہ وہ آنی ۱؎ہے اور شدنی۔مرض الموت کا آخر ایک زمانہ کے بعد اور زمانہ تک آنا ضروری ہے اگر کہا جاوے کہ آدمیوں کے لئے بھی کیوں ایسی موت تجویز نہ ہو تو اوّل تو یہ ظاہر ہے کہ ایسی اضطراری موت فوجی جوانوں کے لئے تجویز کی گئی ہے اور عام اس لئے نہیں کہ انسان کے ساتھ بہت سے حقوق متعلق ہوتے ہیں ان کا ضائع ہونا زیادہ دکھوں کاموجب ہے۔چھٹا نظارہ دیانندی طرز پر یہ ہے کہ درخت بھی ان کے نزدیک وہی روحیں رکھتے ہیں جو انسان رکھتے ہیں دیکھو صفحہ ۳۴۲ ستیارتھ پرکاش جہاں لکھاہے جو نہایت درجہ کے تموگنی ہیں وہ غیر متحرک درخت وغیرہ کیڑے مکوڑوں کا مچھلی،سانپ ،کچھوے،مویشی اور مرگ (جنگلی چوپایہ) کا جنم پاتے ہیں۔منو ۱۲/۴۲۔اس قانون اور اعتقاد کی بناء پر ایک درخت کا کاٹنا اورمویشی اور مرگ کا قتل کرنا برابر ہو جاتا ہے۔اس اصول کو مدنظر رکھ کر آریوں پر فرض ہے کہ ایک درخت کے کاٹنے پر بھی وہی کائیں کائیں کریں جو گائے کے قتل پر حشر برپا کرتے ہیں۔ورنہ دیانند کے بنائے ہوئے اصول کو وہ جوتیوں کے نیچے روندتے ہیں اور درختوں میں بے ہوشی کا دعویٰ بے دلیل ہے۔سوال نمبر۳۸۔ریشمی کپڑے اتنا سامان کہاں سے آئے گا۔کون بُنے گا۔ریشم کیڑوں کا فضلہ اور لعاب ہے۔الجواب۔سرب شکتی مان کے خزانہ سے جہان سے تمام جگ کو ملتا ہے سورج کی تیزی قائم رکھنے کے لئے زمین کے لئے نباتات کو اگانے کے لئے اور حیوانات کے لئے کس قدر چیزوں کی ضرورت ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ الٰہی کارخانہ میں سب کے لئے پورا سامان موجود ہے۔زمین۔پانی۔ہوا اور خلا میں جس قدر ذی حیات ہیں سب کے لئے کس قدر کثرت سے سامان مطلوب ہے مگر سرب شکتی مان ہمہ قدرت کے کارخانہ میں سب کچھ موجود ہے ذرہ کمی نہیں۔