نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 161
میں ہزاروں کیڑے پڑتے ہیں اور انتٹریوں میں صدہا قسم قسم کے،اس وقت ہمارا سچا رحم اقتضا کرتاہے کہ اس شخص کی ہمدردی کی جاوے اور میں سچ کہتا ہوں کہ ان کیڑوں کی جان کا خیال تک بھی ہمیں پیدا نہیں ہوتا۔ہمارے پاس تو جینی اور آریہ سماج بہت سے ایسے امراض کے مبتلا آئے اورہم نے خدا کی بنائی ہوئی وہ دوائیں جو ہمیں آیو ر۱ ؎وید نے سکھائی ہیں استعمال کیں۔جب ہم نے ایک جان کے بدلے ہزاروں کو قتل کیا تو اس جینی یا آریہ نے بڑی خوشی اور شکر سے بھر کر ہمیں یہی کہا کہ آپ نے بڑی کرپاکی اور آپ تو ہمارے پرمیشر ہو گئے اور آپ کی دیالتا سے ہمیں امن ملا۔تیسرا نظارہ اس وقت ہمارے سامنے آیا جب ہم نے جہازوں کا سفر کیا اور بعض وقت مچھلی کے سوا کچھ بھی نہ مل سکا اور لاچار گوشت خوری سے کام لینا پڑا ورنہ ہلاکت کا مونہہ دیکھنا پڑتا۔اور چوتھا نظارہ ہمیں ان تعلیمات سے حاصل ہوا ہے جن کو ہر ایک عقل مند مذہب نے سیاست اور راج نیتی دہرم کے اندر بیان کیا ہے۔ایک را جہ اور اس کی پرجا کے خاطر اورا ن کے فتح مند کرنے کے لئے کس قدر فوجیں اور آگ اور بجلی اور اس سے بڑھ کر دشمن کش ہتھیار ایجاد کئے گئے اور ان کی تعریف کی گئی ہے اور خود منو جی اور ستیارتھ کے مصنف اور یورپ کے غریب دل برّے کے اتباع نے تجویز کئے ہیں اور رات دن ایک عالم سیاسیوں کا ان کے ایجاد میں مصروف ہے۔یہ فطری تحریک بھی جو ہر زمانہ اور ہر قوم میں جاری رہی ہے گوشت خوری کی بڑی مؤید ہے۔اس کے خلاف ہمارے نبی کریم ﷺ نے یہ کہا ہے کہ لایعذب بالنار الا رب النار اور نہ آگ کے ہتھیار بنانے کی تاکید قرآن کریم نے کی ہے مگر منو جی او ر وید نے بقول دیانند کے بڑے زور سے ایسے ہتھیاروں کے بنانے کی تاکید کی ہے۔دیکھو ستیارتھ صفحہ ۳۷۰۔چنانچہ جیسے کوئی ایک لوہے کا بان یا گولا بنا کر اس میں ایسی اشیاء رکھے کہ جو آگ کے لگانے سے ہوا میں دھواں پھیلنے اور سورج کی کرن یا ہوا کے مس ہونے سے آگ روشن ہو جائے اسی کانام اگنی آستر (آگ کا ہتھیار )ہے۔