نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 134 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 134

کعبہ پرستی۔آگ پرستی۔رسول پرستی سکھائی ہے۔لاحول و لا قوۃ الا باللہ۔میں نے تکذیب والے سے تنقیہ والے کو مہذب اس لئے کہا ہے کہ اس نافہم نے تکذیب کے صفحہ ۲۱۰میں پیر پرستی۔سخی سرورپرستی۔شمس پرستی۔تابوت سکینہ پرستی۔کو اسلام کی طرف منسوب کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ یاجبرائیل کا وظیفہ کرتے ہیں۔مؤلف تنقیہ کوتو دلیل کا خیال بھی آیاہے مگر مکذب نے سب کچھ بے دلیل ہانک دیا۔بہرحال سنو! پرستش کے معنے عبادت اور پوجا کے ہیں۔عبادت عربی زبان میں کس کو کہتے ہیں۔قاموس اللغہ اور ا س کی شرح تاج العروس میں لکھا ہے۔العبادۃ : فعل مایرضی بہ الرب۔عبد عبادۃ وعبودۃ وعبودیۃ۔اطاعہ اعبدوا ربکم۔اطیعوا ربکم۔پھر سوچنا چاہیے علاوہ بریں آدم علیہ السلام کا قصہ ایک تاریخی واقعہ کا بیان ہے۔اس واقعہ کے بیان سے یہ کہاں سے نکلا کہ حضور علیہ السلام ہمارے نبی کریم نے ملائکہ کو آدم کے سجدہ کا حکم دیا۔بت پرستی اور بتوں کو قرآن نے رجس فرمایا جیسے فرمایا  (الحج:۳۱)اور (البقرۃ :۱۲۶) کامطلب یہ ہے کہ مکہ معظمہ کو بت پرستی اور بتوں سے پاک کر دو۔یہاں بت پرستی کا استیصال ہوا یا بت پرستی ہے؟ نیز ملائکہ کا آدم کو سجدہ کرنا اور اہل اسلام کا بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا یا مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اور پیغمبر صاحب کی بات کو ماننا کیا اپنے نفس وہوا کی فرمانبرداری ہے۔کیا آدم کا حکم ہے کیا کعبہ کا حکم۔کیا حضرت نبی عرب کا اپنا حکم ہے یا حسب اعتقاد اہل اسلام کے اللہ تعالیٰ کا حکم۔اگر باعتقاد اہل اسلام اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو اللہ کی عبادت ہوئی نہ آدم اور کعبہ اور رسالت مآب کی۔ہاں بت پرست کی بت پرستی شرک ہو گی کیونکہ اس پر الٰہی فرمان نہیں۔پھر حضرت سیدنا ابو البشر آدم خلیفہ تھے۔الٰہی خلفاء کی فرمانبرداری اور الٰہی رسولوں کی فرمانبرداری