نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 133

(النمل :۶۵،۶۶)کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے بتاؤ کوئی معبود اللہ کے ساتھ ہے کہہ کوئی دلیل تو لاؤ اگر سچے ہو۔کہہ آسمانوں اور زمین میں جو ہیں وہ غیب کو نہیں جانتے سوا اللہ کے انہیں کوئی پتا نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔یہ نمونہ ہے ان کلمات طیبات کا جن میں شرک کا استیصال کیا گیا ہے اور قرآن میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں اختلاف اور تناقض نہیں۔پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایسی صریح اور پُرشوکت تعلیم کے خلاف یہ الزام لگایا جائے کہ اس میں شرک کی تعلیم ہے۔اگر آریہ میں غیرت ہے تو ہم ا نہیں بلاتے ہیں کہ ایسی پاک تعلیم شرک کے خلاف وید سے نکال کر دکھائیں۔کاش وید میں کوئی صاف فقرہ ایسا ایک ہی ہوتا تو اتنی مخلوق ناپاک بت پرستی میں گرفتار نہ ہوتی۔یہ وید کی بقول دیانند کے استعارہ آمیز تعلیم کا نتیجہ ہے کہ کل ہندوستان لامعلوم برسوں سے طرح طرح کی مخلوق پرستیوں کی نحوست میں مبتلا ہے۔قرآن کریم اپنی نسبت دعویٰ کرتاہے جیسے فرمایا۔(النساء:۸۳)اگر قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے۔بلکہ قرآن مجید کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(النحل:۶۵) قرآن اسی لئے اتارا ہے کہ لوگوں کی تمام اختلافی باتوں کا حَکم بن کر فیصلہ کرے۔اس صورت میں کیونکر ہو سکتاہے کہ قرآن کریم میں شرک کی تعلیم ہے۔ (الکھف:۶) اب اس اعتراض کا جواب سنئے جس کو تنقیہ کے نہایت نافہم مگر تکذیب والے سے کسی قدر مہذب نے بیا ن کیا ہے۔تنقیہ کا مؤلف کہتا ہے کہ قرآن مجید اور حضرت ہادی اسلام نے آدم پرستی۔