نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 135
ی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہوا کرتی ہے۔کیا تم کو اتنی بھی خبر نہیں کہ رسول کے معنے ایلچی کے ہیں۔ایلچی پیام رساں کی اس امر میں فرمانبرداری جس میں وہ پیامبر ہو کر کسی کے حکم کو پہنچاتا ہے حکم بھیجنے والے کی فرمانبرداری ہوا کرتی ہے اسی واسطے صحابہ کرام کو جب حضرت سرور عالم کوئی حکم فرماتے تو بعض وقت وہ پوچھ لیا کرتے کہ اَوَحْیاً اَمْ مَشْوَرَۃ۔آگ پرستی کا تو قرآن میں کہیں ذکر ہی نہیں اور جس آیت سے استدلال کیا ہے اس آیت کی تفسیر بتفصیل میں نے تصدیق براہین احمدیہ کے صفحہ نمبر ۱۳۰،۱۳۵میں کر دی ہے۔علاوہ بریں کعبہ پرستی کے اتہام پر گزارش ہے کہ اہل اسلام کا کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا کعبہ پرستی ہرگز نہیں ہو سکتی۔اوّل۔تو اس لئے کہ استقبال کعبہ کے صرف اتنے معنے ہیں کہ کعبہ کی طرف منہ ہو اور بت پرستی کا حاصل یہ ہے کہ بت معبود ہوں۔دوم۔نماز میں کعبہ کی طرف منہ ہونا چاہیے۔اس امر کی نیت بھی شرط نہیں کہ کعبہ کی طرف منہ ہوچہ جا ئیکہ کعبہ کی عبادت کی نیت ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت ضرور ہے۔سوم۔ابتدا نماز سے نماز کے آخر تک اسلامی نماز میں تعظیم کعبہ کا کوئی لفظ نہیں۔نماز اللہ اکبر کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اوررحمۃ اللہ کے لفظ پر ختم ہوجاتی ہے اللہ ہی کے نام سے شروع اور اسی کے نام پر ختم ہوتی ہے۔چہارم۔کعبہ کی دیواروں کا نمازی کے مقابل ہونا بالکل شر ط نہیں اگر بالفرض کعبہ کی دیواریں منہدم ہو جاویں جیسے حضرت عبد اللہ بن زبیر کے وقت نئے سرے کعبہ کی تعمیر کے وقت اتفاق ہواتو بھی نماز ادا کی جاتی ہے۔اگر کعبہ کی دیوار معبود ومسجود ہوتی تو ضرور تھا کہ اتنے دنوں نماز موقوف رہتی۔غور کرو ! اگر شیو دوارے اور رگہنا تھ جی کے مندر کے بت اٹھوا کر کہیں اور جگہ رکھوا دیں تو پھر بت پرست لوگ تمام بت پرستی کے فرائض اسی دوسری جگہ ادا کرتے ہیں اور پہلی جگہ کو کوئی نہیں پوچھتا۔