نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 316
ہشتم۔باہمہ سخت عداوت ومخالفت ،متکلمان شیعہ وسنی۔خوارج۔روافض وغیرہ فرق اسلام ایک ہی قرآن کو پیش کرتے ہیں۔نہم۔اسلامی سلطنتیں۔انجمنیں اور جماعتیں گو اب سب کمزور ہیں پھر باوجود افلاس کے فضول خرچ، سست، باہم نفاق میں مبتلا مگر پھر بھی ہزاروں ہزار حافظ عورتیں اور مرد اس وقت بھی موجود ہیں اب جب یہ حال ہے تو قوت وشوکت جاہ وجلال کے وقت قرآن کریم کا کیا چرچا ہو گا۔پھر غور کرو نبی کریم کے وقت جب مذہب اسلام میں نئے نئے جوشیلے داخل ہوئے باایں کہ ان کی قوت حفظ ضرب المثل تھی ان کو تئیس برس میںبتدریج قرآن کریم سنایا گیا۔نہم۔ہر ملک وہر ایک قوم میں بڑوں اور چھوٹوں کا امتیاز ہوتا ہے اور قرآن کی یہ قدر ومنزلت اسلام نے کی تھی کہ کہا یؤم القوم اقرء ھم لکتاب اللہ۔قوم کا امام وہی ہو جو سب سے بہتر کتاب اللہ کو پڑھ سکتا ہو۔مطلب یہ کہ تمام محلوں اور جمعہ اور عیدین وغیرہ ایام میں پیش نماز سب لوگوں سے آگے وہ کھڑا ہو جو کوئی قرآن کریم زیادہ جانتا ہو۔پس اب غور کرو اس حکم سے قرآن کریم کی طرف عوام اور خواص کیسے جھکے ہوں گے اسی واسطے ہماری تواریخوں میں ہے کہ ایک یمامہ کی لڑائی میں ستّر قاری شہید ہو گئے تھے۔ادنیٰ درجہ اور قوم کے لوگ اسی واسطے پڑھتے تھے کہ ا ٓگے بڑھیں اور اعلیٰ لوگ اس لئے کہ پیچھے نہ رہیں۔دہم۔قرآن کریم نزول کے وقت معاً لکھوایا جاتا تھا اس واسطے فرمایا۔(الطور:۲تا۴)اور وغیرہ اورلکھا محفوظ رہتا ہے۔یاز دہم۔یہی قرآن۔تفاسیر۔حدیث،فقہ واصول وغیرہ اسلامیہ علوم کی جڑ تھا بلکہ مباحثات میں بھی اول دلیل تھا پھر یہ کیونکر ضائع ہو سکتا۔دواز دہم۔وعظوں میں اسی کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور مقدمات میںبھی اسی سے اولاً مقدم طور