نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 315
اسّی رکعتوں میں اور حفاظ وعلماء اور اہل دل ہررکعت میںمختلف سورتیںپڑھتے ہیں۔یہی تعامل اہل اسلام کا اب تک تیرہ سوسال سے ہے اور اس میں اصل کتاب کے محفوظ رہنے کا بڑا سرّ ہے۔میں ان نادان۔ناعاقبت اندیش اور کلام الٰہی کے مزہ سے ناواقف لوگوں کو کسی شمار میں نہیں لا سکتا جو تیرہ سو برس کے حقیقی تعامل کے خلاف ترجمہ قرآن کے نماز میں مجوز ہیں گو وہ کئی رنگوں میں رسائل شائع کریں یا کسی سلطانی درہ کا قرب رکھتے ہوں۔نماز میں قرآن کریم پڑھنے کا ارشاد ہے اور قرآن بلسان عربی ہے اور قرآن قرآناً عربیاً ہے اور ترجمہ ہمیشہ مترجم کا خیال ہوتا ہے اور مترجم حسب استعداد و علم وفہم واطلاع ووسعت علم ترجمہ الگ الگ کرتے ہیں۔دنیا میں کوئی کتاب دیکھو اس کا ترجمہ ایک مذہب و ملک کے چند لوگ کریں سب مختلف ہی ہو گا۔دوم۔ضروری ہے کہ مسلمان لوگ قرآن کریم کا تدارس اور دَور کریں اور یہ دور باہم مل کر پڑھنا قرآن کی حفاظت کا بڑا باعث ہے۔سوم۔مریضوں کے سامنے حتیٰ کہ خطرناک حالت میں بھی قرآن کا پڑھنا مسلمانوں میں معمول ہے اور اسے ختم کہتے ہیں اور یٰسین و تبارک تو عام ملوانے بھی جانتے ہیں۔یہ عمل درآمد بھی حفظ کا مؤید ہے اور خوب مؤید ہے۔چہارم۔ہر سال رمضان شریف میں قرآن کریم بکثرت پڑھاجاتا ہے تم کو تو خبر نہیں کیونکہ تم تو مسلمانوں کی گو دمیں نہیں پلے اور بعض ناعاقبت اندیشوں نے اس کو ترک کر دیا۔پنجم۔حفاظ کے مجمعوں میں قرآن کریم دعویٰ سے یاد سنایا جاتا ہے اور اس سے خوب حفاظت ہوتی ہے۔ششم۔ہر روز ہم لوگ خطوط تصانیف اور ہر روزہ بات چیت میں بہت بہت آیات پڑھتے ہیں اور اس قدر پڑھی جاتی ہیں کہ غالباً کل قرآن پڑھاجاتا ہے۔ہفتم۔مسلمان اور مخالفان اسلام بھی قرآن پر تفسیریں لکھتے ہیں اور لکھتے آئے۔