نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 317
پر استدلال کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔عبادات خلوت کی ہوں یا جلوت کی سب میں قرآن کریم مقدم تھا اور ہے اور ان میں پڑھاجاتا تھا اور پڑھاجاتا ہے۔سیز دہم۔جس قدر لوگ اور قومیں مسلمان ہوتی تھیں ان کے مذہبی رسوم اور مقدمات کے لئے ماہران قرآن کو ان قوموں کے پاس روانہ کیا جاتا تھا اور ان کا امیر بنایا جاتا تھا۔چہاردہم۔اس کے لکھنے والے بنصّ قطعی قرآن کے معزز بنائے گئے تھے جیسے فرمایا (عبس:۱۴تا۱۷) پانز دہم۔ثابت ہوتاہے کہ زمانہ پاک میں اس کے نسخے موجود تھے اسی واسطے فرمایا (الواقعۃ :۸۰) کیسا مشہور قصہ ہے کہ جب حضرت عمرؓایمان لائے تو اس وقت آپ نے اپنی بہن کے پاس سے بیسویں سورۃ کی نقل لینی چاہی۔ان تمام وجوہ کو جو قرآن کریم کی عصمت اور حفاظت کے ہم نے بیان کئے پڑھ کر اور ان میں غور کرنے کے بعد کون ایسا صاحب دل ہے جو قر آن کریم کی لانظیر عظمت میں شک کر سکتا اور معاً اس نتیجہ صحیحہ پر پہنچنے سے رُک سکتا ہے کہ دنیا میں قدیم سے اب تک کوئی ایسی کتاب نہیں جسے اکرام اور حفاظت کا شرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہو۔سوال نمبر ۱۱۴۔(البقرۃ :۲۴) پر اعتراض کیا ہے کہ شیکسپیئر کے ناٹک، مکالے کے مضامین اور لڑکوں کی اونٹ پٹانگ، کوے، چیل، بندر، چڑیوں کی بولیاں بے نظیر ی میںقرآن کی طرح خدا کا کلام ہوں۔الجواب: اوّل: سنو جی ! شیکسپیئر، مکالے، لڑکے، کوے، چیلوں، بندروں، چڑیوں نے کبھی دعویٰ اور تحدی نہیں کی اور قرآن کریم کی بے نظیری کا ایک انسان دعویٰ کرتا ہے اور بار بار کرتا ہے۔دوم:۔غور کرو فصاحت بلاغت ،پیشگوئیاں ،اعلیٰ تعلیم ،اعلیٰ کامیابی کا نام نہیں لیاکہ قرآن کریم کی مثل فلاں فلاںبات میںتم پیش کرکے دکھاؤ بلکہ عام دعویٰ بے نظیری کا کیا ہے۔مخالفان اسلام کو موقع