نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 309
سوال نمبر۱۱۱۔(الجمعۃ:۳)پر اعتراض کیا ہے کہ پڑھے لکھے عالم فاضل ،ان پڑھ کی بات کو کیوں مانیں۔سورج کا دلدل میں غروب ہونا۔عیسیٰ بلاباپ پیدا ہو گیا۔لاٹھی کا سانپ بن گیا۔یہ باتیں معقول پسند آدمی کی کتاب میں نہیں ہو سکتیں۔الجواب :آیت کے صحیح معنی ہم بتاتے ہیں مگر اس کے معنی کو بیان کرنے سے پہلے میں پوچھتا ہوں کہ سورج کا دلدل میں ڈوبنا کتنی بار بیان کر چکے ہو۔تم لوگوں کو تکرار مضامین کلام مجید پر اعتراض ہے اور ذرا سے رسالہ میں یہ تکرار۔دیکھو سوال نمبر۷۹،۸۰پھر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر سوال دیکھو سوال نمبر۱۶،۷۴پھر لاٹھی کے سانپ پر اعتراض دیکھو سوال نمبر۴۸،۴۹،۵۰۔(۱)بھلا یہ تو بتاؤ کہ قرآن کریم میں کہاں لکھا ہے کہ سورج دلدل میں غروب ہوتا ہے تم جھوٹ بولتے ہو۔ہاں قرآن میں ہرگز ہرگز نہیں لکھا بلکہ وہاں لکھا ہے (الکھف:۸۷)یہاں لفظ جس کے معنی ہیں ’’سمجھا اس نے‘‘سورج کو کئے ہیں۔پھرہمارے نبی کریم ﷺ کو کون کہتا ہے کہ ان پڑھ تھے۔ہمارے جس قرآ ن مجید پر تم کو اعتراض ہے اس میں تو لکھا ہے اور ہمارے ہادی کو خطاب ہے۔ (النساء :۱۱۴) اور فرمایا (النجم :۶،۷)اور فرمایا : (طٰہٰ :۱۱۵) اور فرمایا: (العلق :۶) پس آپؐ کا معلّم وہ علیم وخبیر ہے جس کا دوسرا نام رب العلمین ہے۔وہ ہر ایک کو اس طرح اب بھی سکھانے کو تیار ہے جس طرح اس نے پہلے سکھایا۔جیسے فرمایا: (البقرہ:۲۸۳) ہاں تم بتاؤ کہ اگنی ،ادت ،انگرہ ،وایو جو تمھارے اصل معلّم و بانیء دین خیال کیے گئے ہیں۔کیا پڑھے لکھے تھے۔ان کے کسی استاد کا نام بتاؤ مگر آپ نے نور الدین کی شاگردی تو کرنا نہیں۔کیا پال ،وہ پڑھے لکھے تھے۔اگر ہاں کہو تو ثبوت دو وید سے اور اگر کہو کہ نہیں تو دستبرداری کرو