نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 310 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 310

اعتراض سے۔بات یہ ہے کہ اوّل تو رشی بے باپ تھے۔دوم تمھا رے اعتقاد کے مطابق یہ خلاف قانون قدرت ہے کہ خدا ان سے بولا ہو۔سوم بہر حال ان پڑھ تھے۔منیو ،رشیو ں نے جب یہ کلام ان سے سنا تو وہ خود عملاًکچھ نہیںبتا سکے۔بلکہ ان رشیوں کو بھی صرف اپنے فکرو خیالات سے خود بخودبرہموںکی طرح ہی ویدک معانی سمجھنے پڑے۔بخلاف ہادی اسلام کے کہ آپ نے قرآن کریم کا اوّل عملی نمونہ بن کر دکھایاآپ نے عمل کرکے دکھایا۔عمل درآمد کرا کر دکھایا۔تو تُو بھی اے نعوذباللہ اسلامی سکول کا ہیڈ ماسٹر رہا تھا۔کیا سچ مچ ملہمان وید پڑھے لکھے تھے۔کیا پڑھا ہوا تھا اور کیا لکھا تھا۔آریہ ورت کی تمام تفاسیر وید تو غلط ہیں۔دیکھو ستیا رتھ ص۵۳۳اور رگ وید بھومکا ص۲۰۰ اور آریہ ورت کا عمل درآمد قبل ازآریہ سماج از سر تا پا غلط تھا۔آریہ ورت کے مصلح شنکرا چارج بھی تمہارے نزدیک غلطی پر تھے۔کیونکہ شنکراچارج ویدانتی تھے۔مگر ایسا دعویٰ اسلام اپنے ہادی کی نسبت نہیںکر سکتا۔دیکھو عمل درآمد میں تعامل اسلام کیساصحیح ہے۔او بد قسمت !پہلی تفاسیریں تو حسب تحقیق دیانند غلط تھیںاور دیانندی تفسیر حسب تحقیق آریہ مسافر و تصدیق منشی رام وغیرہ غلط ہیں۔دیکھو ترجمہ رگ وید بھاشی بھومکا منشی رام کا ابتداء ،منشی رام کاترجمہ صفحہ۵،۶،۷۔اب آیت کے معنی سنو !امّ القریٰ کی طرف نسبت کرنے میں امّی بولتے ہیں۔تم نے مکر، مکرا، مکروا کی گردان کر کے دکھایا ہے کہ تم عربی جانتے ہیں۔پس کیا یہ سچ نہیں ؟پس امی کے معانی ہوئے امّ القر یٰ کا رہنے والااور امّ القریٰ مکہ کا نام ہے۔پس ان پڑھ کے معنے خواہ مخواہ لے لئے۔موقع مناسب آگا پیچھادیکھ کر معنی کرنا چاہیئے تھا۔اور سچ یہ ہے کہ جہاں کوئی ہادی بھیجا جاتاہے اسی بستی کو اس ہادی کے زمانے میںاور بستیوں کا امّ جس کے معنی اصل کے ہیںکہا جاتا ہے۔ثبوت (القصص :۶۰)قرآن میں ہے۔پھر اس لحاظ سے بھی مکہ معظمہ کو امّ اور امّ القریٰ کہا گیااور ہر مامور کی بستی امّ ہواکرتی ہے۔