نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 274

اب کوئی انصاف کرے کہ کن معنی پر اعتراض کی جگہ ہے۔ہم نے تصدیق براہینِ احمدیہ کی جلد دوئم میں اس مضمون پر بسط سے کلام کیا تھا۔اس مسودہ سے بھی یہاں مختصراً کچھ نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔مکذب براہین احمدیہ کے اعتراض کا تیسراحصہ یہ تھا ’’اہل اسلام کے نزدیک پہاڑ بمنزلہ میخوں کے زمین پر ٹھونکے گئے۔یہ خام خیالی ہے۔‘‘ الجواب۔خام خیالی کا دعویٰ کرنا اور ثبوت نہ دینا یہ بھی معترض کی خام خیالی ہے۔(لقمان :۱۱) اور آیت کریمہ(النباء :۸) ایک نہایت سچی فلسفی ہے اور اس سچی فلسفی پر جدیدہ علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں اور انہیں مشاہدات سے بھی ہم گذشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کرسکتے ہیں۔طبقات الارض کی تحقیقات اور مشاہدات سے اچھی طر ح ثابت ہو سکتا ہے کہ اس زمین کا ثبات وقرار اضطرابات وزلازل سے خالق السمٰوات والارض نے تکوین جبال اور خلق کوہسار سے ہی فرمایا ہے اور زمین کے تپ لرزہ کو اس علیم وقدیر نے تکوین جبال سے تسکین دی ہے۔چنانچہ علم طبقات الارض میں تسلیم کیا گیاہے کہ یہ زمین ابتداء میں ایک آتشیں گیس تھا جس کی بالائی سطح پر دھواں اور دخان تھا اور اس امر کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے جہاں فرمایا ہے (حٰم السجدہ:۱۲) پھروہ آتشی مادہ اوپر سے بتدریج سرد ہوکر ایک سیال چیز بن گیا جس کی طرف قرآن شریف نے ان لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے (ہود :۸) پھر وہ مادہ زیادہ سرد ہوکر اوپر سے سخت اور منجمد ہوتاگیا اب بھی جس قدراس کی عمق کو غورسے دیکھتے جاویں اس کا بالائی حصہ سرداور نیچے کا حصہ گرم ہے کوئلوں اور کانوں کے کھودنے والوں نے اپنی مختلف تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے گو اس نتیجہ میں فلاسفروں کو اختلاف ہے کہ ۳۶مائل عمق سے نیچے اب تک ایک ایسا ذوبانی اور ناری مادہ موجود ہے جس کی گرمی تصور سے بالاہے۔(اسلام نے بھی دوزخ کو نیچے بتایا ہے) جب