نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 275

زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی نہ تھی اس وقت زمین کے اس آتشیں سمندر کی موجوں کا کوئی مانع نہ تھا اور اس لیے کہ اس وقت حرارت زیادہ قوی تھی اور حرارت حرکت کو موجب ہواکرتی ہے۔زمین کی اندرونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلے جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیداہوگئے آخر جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی ہوگئی اور اس کے ثبات وثقل نے اس آتشی سمندر کی موجوں کو دبادیا تب وہ زمین حیوانات کی بودوباش کے قابل ہوگئی۔اسی واسطے قرآن کریم نے فرمایا ہے (لقمان :۱۱) اور اس کے بعد فرمایا: ۔کا لفظ جو آیت میں آیا ہے اس کے معنی ہیں بنایا کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیت میں بجائے القی کے جعل کا لفظ آیا ہے جس کے صاف معنی ہیں بنایا اور ان امور کی کیفیت آیت ذیل سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔  (حٰم السجدۃ :۱۱) اور زمین کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھی اور اس پر ہرقسم کی کھانے کی چیزیں پیداکیں۔ایک عجیب نکتہ آپ کو سناتے ہیں آپ سے میری مراد وہ سعادت مند ہیں جو اس نکتہ سے فائدہ اٹھاویں۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے اس کا مطلب ایسا لطیف ہے کہ جس سے یہ تمہارا سوال بھی حل ہوجاوے اور قرآن کی عظمت بھی ظاہر ہو۔غورکرواس آیت پر(النمل :۸۹) اور تو پہاڑوں کودیکھ کر گمان کرتاہے کہ وہ مضبوط جمے ہوئے اور وہ بادل کی طرح اڑ رہے ہیں یہ اللہ کی کاری گری قابل دید ہے جس نے ہر شے کو خوب مضبوط بنایا ہے۔غور کرو یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ پہاڑ تمہارے گمان میں ایک جگہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہ بادلوں کی طرح چلے جاتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ زمین کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور یہ کیسا عجیب نکتہ ہے۔