نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 273

عام انسانی بول چال میں بھی ہاتھ کا لفظ ان سب معنوں پر بولا جاتاہے بتائو تو تمہاری سمجھ میں کوئی معنی بھی ان معنوں سے آتے ہیں یا نہیں؟ سوال نمبر۸۴۔زمین پر پہاڑ اس لیے رکھے کہ وہ آدمیوں کے بوجھ سے ہل نہ جاوے۔الجواب۔قرآن کریم میں اس مضمون کی آیت تو کوئی نہیں البتہ یہ آیت ہے (النحل :۱۶)اس آیت میںکا لفظ ہے جس کے معنی تمہیں بتاتے ہیں اور دوسری آیت اسی مضمون کی یہ ہے  (الانبیاء:۳۲) دونوں میں تمید کا لفظ ہے جو جہالت کے سبب سے دشمن ِ اسلام کی سمجھ میں نہیں آیا۔سنو ! لغت عرب میں مادنی یمدنی اطعمنی (مفرادت القرآن للراغب )اور مید کے معنی ہیں ہلنا دیکھو ماد یمید میداً ومیداناً تحرک (قاموس اللغۃ ) مادھم اصابھم دوار (قاموس) والمائدۃ الدائرۃ من الارض (قاموس) ان معنوں کے لحاظ سے جو مادنی یمیدنی کے کئے گئے ہیں اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ رکھے زمین میں پہاڑ اس لیے کہ کھانادیں تمہیں اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ نے بنا یا ہے کہ ان میں برفیں پگھلیں چشمیں جاری ہوں ندیاں نکلیں پھر ان کے سیل پر اس سطح سے جس میں ریگ ہوتی ہے پانی مصفّٰی ہوکر کنوئوں میں آتاہے پھر اس سے کھیت سرسبزہوتے ہیں یہ بھی ایک سلسلہ علاوہ رحمت کے سلسلے کے ہے جو باران رحمتِ الٰہیہ سے ہے جس کا ذکر اس کلمہ طیبہ میں ہے(البقرۃ :۲۳) اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہوئے کہ ہم نے زمین پر پہاڑ رکھے کہ چکر کھاتے ہیں ساتھ تمہارے یہ الٰہی طاقت کا ذکر ہے کہ اس نے اتنے بڑے مستحکم مضبوط پہاڑوں کو بھی زمین کے ساتھ چکر دے رکھا ہے اورنظام ارضی میں کوئی خلل نہیں آتا