نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 198
کیا چشم پوشی کے لائق ہے کہ طبع اول کی ستیارتھ کو جو اس کے شاگرد اور ایک را جہ کے اہتمام سے تیار ہوا تھا رد کر دیا اور وید بہاش کے متعلق آخر آریہ مسافر نے یہ پردہ براندازی کی کہ اس کا ناگری ترجمہ اور بہاؤ ارتھ غلط ہے اور پوپون کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا۔غور کرو دیانند نے وید کا بہاش لکھا اس خیال سے کہ پرانے بہاش غلط ہیں مگر بدقسمتی اور خذلان کو دیکھئے کہ اول تو اپنا بہاش تمام نہ کر سکا۔پھر اس میں اس کی مرضی کے خلاف پوپون کاوار چل گیا۔دانشمند خداترس اس کارروائی سے صاف سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مشیت ہمیشہ سے ویدوں کے ابطال واعدام کے درپئے ہے ان کی اشاعت اس کامقصود کبھی نہیں ہوا۔اب رہا نمبر۱،۲،۸اس میں نمبر ۲کے بیان میں تم نے حماقت اور جھوٹ سے کام لیا ہے اور بے ہودہ فقرہ بازی کی ہے۔قرآن کریم میں تویوں آیا ہے۔(طٰہٰ :۶۷)ان کی رسیاں اور سونٹے قوت متخیلہ کو چلتے معلوم ہوتے تھے۔اور ایک فرمایا ہے (الاعراف:۱۱۷) اور ان ہتکنڈے بازوں نے لوگوں کی آنکھوں کو دھوکا دیا اور انہیں ڈرانے کی کوشش کی اور بڑا دھوکا کیا۔اب ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ یہ کہاں لکھاہے کہ ساحروں کے ڈنڈے اور رسّے واقعی سانپ بن گئے تھے۔خدا کی کتاب صرف یہ کہتی ہے کہ ان کے رسّے اور ڈنڈے ان کے واہموں اور تخیلوں کو چلتے نظر آئے اور ساحروں نے عام لوگوں کی آنکھوں کو دھوکے میں ڈالا اور ڈرانا چاہا اور بڑا دھوکہ کیا یہ نظارہ قانون قدرت اور سائنس کے نزدیک ایسا واقعی اور صاف ہے کہ بڑی تشریح کی بھی ضرورت نہیں۔