نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 197
مکہ معظمہ کی مسجد چونکہ ابو الحنفاء شرک سے پورے بیزار ابراہیم سے بلکہ اس سے بھی پہلے الٰہی عبادت کے لئے بنائی گئی اس واسطے وہ بیت اللہ کہلائی جیسے فرمایا۔(آل عمران:۹۷)پہلا گھر جو (خدا کی عبادت کے لئے)قوموںکے لئے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے مبارک اور ہدایت ہے لوگوں کے لئے۔سوال نمبر۴۷۔احرام کے دنوں میںشکار نہ کرو۔الجواب۔احرام سے عبادت حج شروع ہوتی ہے تو کیا عبادت کے وقت اور اشغال مناسب ہیں۔تم نہیں جانتے کہ ایک شغل دوسرے شغلوںکا مانع ہوتا ہے۔تمہارے یہاں سینت کے وقت گرہ آشرم کب جائز ہے اور شکار تو بڑے اشغال کاموجب ہے۔سوال نمبر ۴۸۔(۱) موسیٰ کی لاٹھی کو خدا نے سانپ بنادیا۔(۲) ساحروں کے ڈنڈوں کو جو سانپ بن گئے تھے کھا گئی۔(۳) وہ ڈنڈے ساحروں کے چالیس گدھوں کا بوجھ تھا۔(۴) کئی سو من وزن موسیٰ کی لاٹھی سب کوکھا گئی۔(۵) ڈکار بھی نہ لیا۔جگالی بھی نہ کی۔(۶) لوگ جو ڈر کر بھاگے چالیس ہزار آدمی اس گھمسان میں مرگئے۔(۷) موسیٰ کو اس کثرت سے لوگوں کے مرنے پر رحم آیا۔(۸) اس اپنے سانپ کو جو پکڑا پھر لاٹھی کی لاٹھی۔(۹) ایک ریفارمر نے اس قصہ پر ملمع چڑھانا چاہا مگر سب بے سود۔الجواب۔تمہارے اصل نمبر ۴میں ہے سَت کولینا اور اسَت کوچھوڑنا چاہیے پس کیا اس سوال نمبر ۴۸ کے نمبر۳،۴،۵،۶،۷میں ذرہ بھی تم نے صداقت۔راست بازی اور شرم وحیا سے کام لیا ہے اور نمبر ۹میں جس ریفارمر کا ذکر کیا ہے اس نے تو بقدر اپنے فہم وفراست کے نیک نیتی سے کام لیا ہے اور یہی ہمارا اس کی نسبت اعتقاد اور یقین ہے مگر دیانند نے جس ملمع سازی اور روبہ بازی سے کام لیا ہے اور وید کے چہرہ پر تہ برتہ برقعے چڑھائے ہیں اس سے ایک جہاں واقف ہے اس کی یہ چالاکی