نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 199 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 199

اور نمبر ۲میں جس لفظ کا ترجمہ تم نے ’’سانپ بن گئی تھی اور کھاگئی ‘‘کیا ہے۔وہ لفظ ہے (الاعراف:۱۱۸)اس میں تَلْقَف اور یَاْفِکُوْنَ کے معنوں پر غورکرنی چاہیے۔تلقف مجرد ہے قاموس اللغۃ میں ہے لقفہ کسمع لقفا ولقفا نامحرکۃ تناولہ بسرعۃ۔اس کا ترجمہ ہوا کسی چیز کو جلدی سے پکڑ لینا۔یَاْفِکُون بھی مجرد ہے اس کے معنی قاموس اللغۃ میں لکھے ہیں افک کضرب وعلم افکا وافوکاکذب۔ترجمہ۔جھوٹ بولا۔جھوٹی کارروائی کی اور سارے جملہ کا ترجمہ ہے کہ وہ ان کی جھوٹی کارروائی کو جلدی سے پکڑ لیتا یعنی ان کاتانا بانا ادھیڑ دیتا ہے۔اب رہا نمبر ۱ ونمبر۸ اس کے جواب کے لئے پہلے میں تم کو ملزم کرتا ہوں۔منوکے ۱۲۔۵۰اور ستیارتھ کے ۴۴۲میں ہے۔’’جو اعلیٰ درجہ کے ستوگنی ہو کرعمدہ ترین کام کرتے ہیں وہ برہما یعنی سب ویدوں کے جاننے والے وشوسرج یعنی علم قانون کوجان کر قسم قسم کے وبان۔غبارہ وغیرہ سواریاں بنانے والے دھارمک اور سب سے اعلیٰ عقل والے ہوتے ہیں اور اویکت یعنی لطیف ترین مادہ کو شکل میں لانے اور پرکرتی (یعنی علت مادی) پرقابو پانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔پھر تم کو بتاتے ہیں پاتنجل سوتر نمبر۱ پادچہارم میں لکھا ہے اور پاتنجل کو دیانند نے تسلیم کیاہے یوگی جب ریاضت کرتاہے تو اس کو اشٹ سدہیان نصیب ہوتی ہیں۔۱۔اتما۔لطیف صورت بن جانا۔۲۔مہما۔بڑاجسم بن جانا۔۳۔گرما۔وزن دار ہوجانا۔۴۔لگھما۔ہلکا ہو کر اڑجانا۔۵۔پراپتی۔سورج چاند کو ہاتھ سے چھو لینا۔