نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 74

گے جو بیان کیا ہے اور امید قوی ہے کہ قوم کے ہمدرد وید کی صحیح تفاسیر شائع کریں گے کیونکہ سچا مذہب خواہ مخواہ کے تحکم اور دھینگا مشتی سے تو پیر جما نہیں سکتا۔فقرہ یاز دہم : دہرم پال کی تہذیب کا نمونہ:۔ان ناشایستہ اور تہذیب کش باتوں کے لکھنے کی ضرورت اس و جہ سے پیش آئی کہ پنڈت سوامی دیانند نے ا پنی تحریروں میں دعویٰ کیا ہے کہ دوسرے مذاہب کو بُرا کہنا ان کا شیوا نہیں اور بدتہذیب شخص کو وہ بہت بُرا سمجھتے ہیں۔اس نامعقول منقول سے ہمیں دکھانا منظور ہے کہ خود پنڈت جی اور ان کے سرگرم چیلے کس قدر پابند ان ہدایات کے ہوئے ہیں۔اس راہ کے آداب و اخلاق کے سکھانے میں بھی قرآن کریم کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس مبارک کتاب نے تعلیم دی ہے کہ الباطل سے جنگ کرنے کے وقت اس کے قابل اکرام معبودوں اور معظم مقصودوں کی نسبت کس طریق پر کلام کرنا چاہیے جیسے فرمایا:  (الا نعام :۱۰۹) ترجمہ۔تم لوگوں کے معبودوں کو گالی نہ دو وہ اس کے عوض میں جہالت اور زیادتی سے اللہ کو گالی دیں گے۔اس مبارک تعلیم سے وید اور دوسری تمام کتابیں محض برہنہ ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں میں کوئی ذاتی خوبی اور جوہر نہیں۔یہ کتابیں اپنی جگہ بے زبان ہیں۔کوئی دعویٰ اپنی دلیل کے ساتھ ان میں نہیں۔ہاں ! ان کے وکیلوں اور حامیوں کے مونہہ میں لاریب سیاہ زہر دار کو برہ کی دو شاخی زبانیں۔یہ لوگ پادری اور آریہ اپنی کامیابی اور ظفر اسی میں سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی عیب چینی کریں۔اپنی کتابوں اور عقیدوں کے معارف واسرار کے اظہار سے انہیں کوئی غرض نہیں۔اگرمذاہب اور ملل اس پر اتفاق کر لیں کہ تمام حامیان دین اپنے مذہب و کتاب کی خوبیوں کے بیان کرنے پر اکتفا کریں اور اس سے تجاوز نہیں کریں گے تو یقینا اس میدان میں گوئی سبقت قرآن کریم کے ہاتھ میں ہے۔