نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 73
ہم ایک بڑی بسیط کتاب اس مذہب کے مقابلہ پر لکھتے اور ایک جلد تصدیق کی شائع بھی کی لیکن اس کتاب کے بعد ہی ہمیں یہ صدا پہنچی کہ ستیارتھ پرکاش غلط ہے اور اس میں پوپوں کی لِیلا ہے حالانکہ چھپوانے والے ایک را جہ اور اس کے مہتمم دیانند جی کے شش تھے۔آخر ہمیں سکنڈ ایڈیشن خریدنی پڑی۔وہ ہم ابھی پوری پڑھ اور سن بھی نہ چکے تھے کہ آواز آئی کہ اس میں بھی غلطیاں ہیں۔پھر ۱۸۹۱ء میں ہمیں بڑی مایوسی ہوئی جب کہ بڑے بڑے آریہ سماج کے مہاتما لوگوں نے یہ شائع کر دیا کہ لیکھرام آریہ مسافر نے ثابت کر دیا ہے کہ دیانند جی کے بھاش میں ناگری ارتھ اور بھاؤ ارتھ غلط ہیں۱؎ اس لئے قابل حجت نہیں۔ان میں مہتممان مطبع کی شرارت ہے۔ہم آریہ مسافر کے علم۔عقل۔فراست۔سنسکرت اور ویدک دانی کو بھی خوب جانتے تھے جنہوں نے مہابھاش کی غلطیاں نکالیں اور اس بات کو بھی خوب جانتے ہیں کہ دیانند جی ۱۸۷۰ء کے اردگرد بمقام لاہور رتن چند کی کوٹھی پر اپنی سوانح عمری لکھوا رہے تھے۔اس وقت وہ نہایت لطیف برج بہاشا بولتے تھے۔میرے جیسامسلمان پینتیس پشت کا مُسْلا بھی اس بہاشا کو خوب سمجھتا تھا۔پھر ہمارے بعض دوست آریہ سماجی وکیل بھی اس امر کے شاہد ہیں کہ یہ باتیں ہمارے مشاہدہ کی ہیں اوریہ بات ظاہر ہے کہ دیانند جی جب اپنے وطن سے نکلے ہیں تو بچے تھے اور سالہا سال راجپوتانہ اور ممالک مغربی شمالی ہندو پنجاب اور بمبئی کلکتہ کی سیر کرتے رہے اور اسی میں عمر گزاری۔باایں ہمہ کیا سوامی جی ایسے کودن تھے کہ وہ بہاشہ بھی نہیں جانتے تھے اور ایسے غبی اور ابلہ تھے کہ مطبع کی مہتممان کی شرارت کو بھی نہ سمجھ سکے اور ہمارے جیسے غریبوں کے ہزاروں روپے بھی تباہ کئے اور پھر اس قوم کی کیسی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں روپیہ جمع کیا مگر کامل تفسیر ویدوں کی نہ لکھ سکے۔پھر قوم کی بدقسمتی سے مانس اور اس کے خلاف۔شدہی اور اس کے خلاف ایسا تفرقہ ہوا کہ اب ایک دوسرے کے تراجم بھی ناقابل اعتبار ہیں۔مجھے یقین ہے کہ بہت سارے شریف الطبع اور عاقبت اندیش آریہ اس دکھ کو محسوس کرتے ہوں