نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 75

الغرض جو شیلے نو تعلیم یافتہ دہرم پال کی شیریں کلامی کا نمونہ مشتے از خر وار ملاحظہ ہو۔ذرہ سی ساٹھ صفحہ کی کتاب اور اس میں دھرم پال کے ناپاک الفاظ یہ ہیں اور وہ بھی مختصر جب قرآن کے ریگستانی مسائل میری پیاس کو نہ بجھا سکے۔جب قرآن کی خلاف از عقل باتیں میرے بے قرار دماغ کو کچھ تسکین نہ دے سکیں۔قرآن کے بہت سے وحشیانہ اور ظالمانہ مسائل میرے نرم دل کو تسکین نہ دے سکے۔جب قرآن کی ادنیٰ درجہ کی تعلیم میرے اعلیٰ خیالات کا ساتھ نہ دے سکی۔صفحہ۶’’جب میںاس واد ی ظلمت میں ادھر ادھر ہاتھ مار کر حیران و سرگردان ہو رہا تھا۔میں عرب کے ریگستانوں سے نکل کر گنگا اور جمنا کے کنارے پر آیا۔چاروں طرف عربی ریگستان کے مسائل سے خشک شدہ دل اور دماغ ہی نہیں ہیں‘‘۔صفحہ ۷’’میں نے قرآن اور اسلام کو سب سے نچلے درجہ پر پایا‘‘۔صفحہ ۹ ’’افسوس ہے ایسی گپوں کے لئے جبرائیل کے پر تھکائے جائیں‘‘۔صفحہ۳۷’’میں نے عرصہ دراز تک قرآن کی چھان بین کی مگر مجھے موتیوں اور جواہرات کی بجائے پتھر اور کنکر ہی ملے‘‘۔صفحہ ۱۰ ’’قرآن اور روحانیت کو دو متضاد سمتوں میں چلتے ہوئے دیکھتا ہوں‘‘۔صفحہ۱۱’’قرآن ایک معمولی مستند کتاب سے ہی نیچے گرا ہوا ہے‘‘۔صفحہ۱۱’’ایک مہذب شخص کی معمولی کتاب سے بھی نیچے گرا ہے۔صفحہ ۱۱’’قرآنی قلعہ کو قرآنی بارود نے ہی اڑا دیا ہے‘‘۔صفحہ۱۱’’الٰہی کلام کا دم بھرنے والی کتاب میں ایسی ایسی لغویات کا ہونا سخت قابل اعتراض ہے‘‘۔صفحہ ۲۱’’میر ے خیال میں حوریں محض قرآنی بیوہ ہیں‘‘۔صفحہ ۲۳’’قرآن میں دو تین باتوں کے دہرانے کے سوا اور کچھ دماغ کے اندر سے نہیں نکل سکا۔آخر انسانی دماغ۔انسانی دماغ ہی ہے‘‘۔صفحہ۲۳’’یہ سب نادانوںکی باتیں ہیں‘‘۔صفحہ۲۶ ’’افسوس ہے ایسے الہامی قصوں پر اور افسوس ہے ایسے الہامی گپوں پر‘‘۔صفحہ ۳۵’’مگر قرآن نے اپنے بڑے بھائی سے (پران)ذرا قدم آگے رکھا‘‘۔صفحہ ۳۶’’افسو س ہے کہ قرآن جیسی ام الکتاب بجائے الہامی کتاب ہونے کے اس قسم کی گپوں سے ام الگپاپ بن رہی ہے‘‘۔صفحہ۴۰’’بہشت کے بارے میں جو قرآن کی تعلیم ہے وہ اور بھی مکروہ اور گھناؤنی ہے۔سچ پوچھو تو قرآنی تعلیم نے