نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 71
انسان ہو تو بھی جب وہ ناپاک پر بیٹھے ہے شیریں حصہ پر توجہ کرے۔فقرہ نہم: ہمارا آریہ سماج سے کیا اختلاف ہے کہ وہ تمام دنیا کے مذاہب سے زیادہ تر اسلام کے اور اسلام میں سے مرزایوں کے خطرناک دشمن ہیں۔اوّل ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کو ارواح۔مادہ اور اس کے اجزاء اور ان کے گن کرم سبہاؤ کا خالق مانتے ہیں اور آریہ سماج باایں کہ اللہ تعالیٰ کو سرب شکتی مان وہ کسی کا محتاج نہیں اور باایں کہ دیانند جی نے بہت جگہ مانا ہے کہ یہ اشیاء جن کا ذکر ہم نے کیا ہے۔لَییْ ہو کر سامرتھ یعنی الٰہی طاقت میں رہ جاتی ہیںمانتے ہیں اور پھر بھی ارواح و مادہ عالم کو غیر مخلوق کہتے ہیں۔دوسرا اختلاف ہمارا ان سے یہ ہے کہ وہ جناب الٰہی کو دیالو اور کرپالو (کھما)والا تو مانتے ہیں مگر باایں عفو و درگزر اور شفاعت کے منکر ہیں۔تیسرا مسئلہ تناسخ کا اور چوتھا مسئلہ جس میں ہم ان سے اکٹھے ہیں نبوت کا ہے۔مگر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ چار مہارشیوں کے سوا خدا کسی سے نہیں بولا اور ہم اس تحدید کے قائل نہیں۔پنجم ایک اخلاقی مسئلہ نیوگ کا ہے وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ نطفہ کسی کا ہو تو بیٹا کسی دوسرے کا حقیقۃً ہو سکتا ہے !بلکہ ہوتا ہے!!اور ہم کہتے ہیں کہ جس کا تم بیٹا قرار دیتے ہو۔نہ اس کے خط وخال اس میں ہیں نہ وہ قویٰ نہ اس کا نطفہ نہ اس کے عادات اور یہ امر اَسَتْ ہے۔ہم خچر کو گھوڑے کا بچہ کیونکر کہہ سکتے ہیں۔گو کہ گھوڑی ہی سے پیدا ہوا۔ان امور خمسہ کے سوا ئے ان کو ہم سے یا ہم کو ان سے کیا اختلاف ہے۔یہ تو دیانند جی اور اس کے بعد آریہ مسافر اور تارک اسلام کی غلطی ہے کہ کہیں ہمارے خدا کو گالیاں دیں جو ان کا بھی وہی خدا ہے وغیرہ وغیرہ۔میں تو ان کی ان محنتوں کا شکریہ کرتاہوںجو انہوں نے شرک کے خلاف کیں۔ہاں ایک چھٹا اختلاف بھی ہے کہ میں عملی طور پربرہمن سے لے کر چنڈال تک سیّد اور متقی سے