نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 70
لاتے ہیں۔اس پر عبد اللہ المرحوم کو الہام ہوا۔ہاں میں اِس وقت تک عبداللہ مرحوم کو صادق راستباز یقین کرتا ہوں اور اسی یقین پر اس الہام کو شائع کرتا ہوں۔؎ گفتگوئی عاشقاں درباب رب جوشش عشق ست نے ترک ادب ہر کہ کرد ازجام حق یک جرعہ نوش نے ادب ماند درو نے عقل وہوش ہاں وہاںترک حسدکن باشہاں ورنہ ابلیسے شوی اندر جہاں با دم شیرے تو بازی مے کنی باملائک ترک وتازی میکنی اس کہانی کی شہادت ایک شخص ساکن لاہور کوچہ کندی گراں کے پاس بھی ہے اور اس کا نام عبدالحق ہے وہ بھی حسن ظن کے قابل ہیںولا ازکی علی اللہ احداً۔دو۲م حضرت امام سیوطیؒ نے اپنی بے نظیر کتاب الاشباہ والنظائر کی جلد سوم صفحہ ۳۱۰میں لکھاہے۔قال فیہ جواب سائلی سال عن حرف لو لشیخنا وسیدنا۔الامام۔العالم۔العلامۃ۔الاوحد۔الحافظ۔المجتھد۔الزاھد۔العابد۔القدوۃ۔امام الائمۃ۔قدوہ الامہ۔علامۃ العلماء۔وارث الانبیاء۔آخر المجتھدین اوحدعلماء الدین۔برکۃ الاسلام۔حجۃ الاعلام۔برھان المتکلمین۔قامع المبتدعین۔ذی العلوم الرفیعہ۔والفنون البدیعۃ۔محی السنۃ۔ومن عظمت بہ علینا المنۃ۔وقامت بہ علی الاعداء الحجۃ۔واستبانت ببرکتہ وھدیہ المجحۃ۔تقی الدین ابی العباس احمد بن عبد الحلیم ابن تیمۃ الحرانی منارہ۔وشید من الدین ارکانہ۔۵۱۔باایں کہ یہ فقرہ ہشتم نورالدین میں موجود ہے۔پھر بھی ایک سلفی کہتا ہے کہ کتاب سلف کے خلاف ہے اور اتنی بھی عقل اس میں باقی نہیں کہ صحیح مسلم والے معنعن حدیث پر بحث کرتے کس کو مبتدع فرما رہے ہیں اور وہ مبتدع امام بھی ہے کہ نہیں اور اصح الکتب والے رحمہ اللہ بعض الناس کہہ کر کس پر زد یں مارتے ہیں اور وہ بعض الناس امام ہیں کہ نہیں۔ایک اور فرماتے ہیں کہ مرزا کو مجموعہ انبیاء بناتا ہے حالانکہ اس کا جواب کیسا صاف ہے کہ مرزا کو نہیں غلام احمد کو۔مگس طینت