نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 72 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 72

لے کر رنڈیوں تک سب کا سچے دل اور پریم سے علاج کرتا اور ان کا بھلا چاہتا ہوں اور آریہ سماج عملی طور پر مسلمانوں کو بہت ستاتے اوردکھ دیتے ہیں۔اس کا ثبوت میں نے خود وکلاء میں اپنی ذات پر تجربہ کیا ہے حالانکہ میرے ایسے وکیلوں پر حقوق تھے۔فقرہ دہم:آریہ سماج سے مباحثہ مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔آسان تو اس لئے ہے کہ حق حقیقت اور سَت اپنے ساتھ خود ایک روشنی اور صداقت رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ اور راست بازوں کی کتابیں، اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت، حقیقی سائنس ،سچا فلسفہ ،پاک وجدان اور فطرت سلیمہ ،حق کے سچے گواہ ہیں اور ان کے اصول میں چوتھا اصل کہتا ہے کہ یہ حق کومان لیں اور ناحق کو ترک کردیں اور مشکل اس لئے ہے کہ آریہ سماج مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہوئے اسلام کی جس کتاب سے چاہیں گو وہ خبیث کتاب بہار دانش کیسی ہی کیوں نہ ہو اعتراض کو جڑ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت سی گالیاں دیتے ہیں اور جب تحقیق اور حق ثابت کرنے کے لئے ہم الزامی جواب دیں اور الزامی جواب بہت مفید ہوا کرتاہے کیونکہ سامع کا دل حقیقی الزام سے اپنی باتوں اور معتقدات کے مطالعہ اور تنقید کی طرف بے اختیار متوجہ ہوجاتا اور اضطراراً حق کی تلاش اور پیاس اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔غرض جب ہم انہیں الزامی جواب دیں تو اپنی مسلمہ کتابوں پر ہی ہاتھ صاف کرتے اور سب سے انکا ر کر دیتے ہیں۔اس صورت میں ہم اس قوم کے لئے الزامی جواب کہاں سے پیداکریں۔تمام آریہ ورتی تفاسیر وید کو خود غلط کہتے ہیں مطلب کے خلاف کوئی امر ہو تو منو اور رامائن اور مہابھارت کو بھی لغو اور محرف بتلاتے ہیں۔ہمیں امید تھی کہ مہارشی دیانند کے تفاسیر اور ان کی علم کلام کی کتاب ستیارتھ پرکاش اور ان کی بہومکا۔اس مباحثہ کے راستے کو بہت صاف کر دے گی۔ہم نے خود سو سے زائد روپیہ صرف اس حق کی جستجو کے لئے اور حق کے سمجھانے کے لئے مہارشی دیانند کے بھاش ستیارتھ اور بھومکا پر خرچ کیا اور تینوں کو بمشکل پڑھا اور سنا او رقریب تھا کہ معیار صداقت ۲۔الزامی جواب