نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 68
اس میں سب صرف و نحو کے مسائل آگئے۔ہم ائمہ تصوف۔ائمہ فقہ۔ائمہ حدیث۔ائمہ کلام کی تعظیم وتکریم کو ضروری یقین کرتے ہیں اور ان کی مشترکہ سبیل کو سبیل المومنین مانتے ہیں۔ہاں ان لوگوں کے آثار باقیہ۔فتوح الغیب وفتح الربانی للسید الشیخ عبد القادر الجیلانی عوارف للشیخ شہاب الدین السہروردی جس کو میرے ابن عم حضرت فرید الدین گنج شکر چشتی ہمیشہ اپنے درس میں رکھتے تھے اور وہ نسخہ جس پر حضرت سلطان نظام الدین نے پڑھا اب تک جمالیوں میں موجو دہے۔منازل السائرین۔شرح مدارج السالکین۔طریق الہجرتین۔مجمع الفوائد وزاد المعاد لشیخ الاسلام الشیخ ابن قیم۔فصل الخطاب لخواجہ محمد پارسا۔مکتوبات لشیخ مشایخنا المجدّد احمدالسرہندی۔وفتوحات مکیہ لابن عربی۔الکتاب الصحیح للامام البخاری۔الموطأ لامام دارالہجرۃ۔امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے آثار باقیہ۔تصانیف امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ۔امام ائمہ فقہ وحدیث وتصانیف امام محمد الشیبانی وطحاوی۔الامام للشافعی محلی اورفصّل لابن حزم۔السنن الکبری للبیہقی۔ورا تعارض العقل والنقل۔والرد علی المنطقیین ومنہاج السنہ للشیخ الاجل رئیس المتکلمین والفقہاء والمحدثین والمفسرین شیخ الاسلام شیخ ابن تیمیہ الحرانی والمطالب العالیہ للامام الرازی۔فتح الباری لابن حجر۔فتح القدیر وتحریر لابن ہمام۔اور تمام تصانیف حافظ ذہبی۔جیسے دول الاسلام، میزان وتذکرہ وغیرہ۔حجۃ اللہ البالغہ لشیخ مشایخنا شاہ ولی اللہ دہلوی۔نیل الاوطار لشوکانی الیمنی موجود ہیں۔منصف خدا پرست دیکھ لے۔انہیں کے ساتھ ہیں ابن المنذر ابن قدامہ ابو یعلیٰ۔میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور میں سچے دل سے علیٰ وجہ البصیرت کامل یقین کرتا ہوں کہ بے ریب یہ لوگ مصداق تھے:(السجدۃ :۲۵)اوران کی دعائیں (الفرقان:۷۵) ضرور ہی قبول ہوئیں پس بڑے ہی بے نصیب ہیں وہ لوگ جو انسانی امامت کے منکر ہیں اور(البقرۃ :۱۲۵)کے بھیدسے ناواقف ہیں ان کی عملی حالتیں خود ان پر