نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 69
ملامت کرتی ہوں گی اگر فطرت سلیمہ باقی ہے۔بحمد للہ ہم نے ان سب کے اسفار طیبہ کو خوب غور سے پڑھا ہے اور ہم علیٰ بصیرت اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیںکہ یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کے برگزیدوں میں اور ہادیوں میں سے تھے۔ہم نے لغت میں بخاری۔اصمعی۔ابوعبیدہ۔مفردات راغب۔نہایہ۔مجمع البحار اور لسان العرب اور صرف ونحو میں سیبویہ۔ابن مالک۔ابن ہشام او ر سیوطی اور قرأت میں شاطیی اور ابو عمر دوانی اورمعانی وبیان میں عبدالقاہر جرجانی مصنف دلائل الاعجاز اور اسرار البلاغۃ اور سکاکی مصنف مفتاح العلوم اور ادب میں اصمعی اور تفاسیر میں روایۃً ابن جریر۔ابن کثیر۔شوکانی کی فتح القدیر اور درایۃً اور روایۃً دونوں میں امام بخاری رحمہ اللہ اور فقط درایت میں تفسیر کبیر کو ائمہ سلف کے بعد انتخاب کیا ہے۔قریب زمانے کے ہندوستانیوں میں جو اصحاب تصنیف گزرے ہیں۔ان میں صاحب حجۃ اللہ البالغہ اور ازالہ الخفا شاہ ولی اللہ کو میں ممتاز انسان اور صافی الذہن جانتا ہوں۔میں حضرت مسیح ؑکی وفات کا قائل ہوں ا ور میراکامل یقین ہے کہ وہ قتل اور پھانسی سے بچ کر اپنی موت سے مرچکے۔اس امت میں ، مَغْضُوْب اور ضَال۔تینوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔پس وہ مسیح موعود علیہ السلام بھی موجود ہے جس نے ہم میں نازل ہونا تھا۔وہ مہدی معہود اور اس وقت کاامام بھی ہے اور انہی میں موجود ہے۔وہ اختلافوں میں حَکَم۔ہم نے اس کی آیات بینات کو دیکھا اور ہم گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرکر جزا سزا حشر اجساد جنت و نار اپنی بے ثبات زندگی کو نصب العین رکھ کر اس کو امام مان لیا ہے۔ہم نے اپنے مقتداؤںمیں ابن حزم اور ابن تیمیہ کو بھی شمار کیا ہے۔اس کی تائید میں صرف دو قول یہاں لکھتے ہیں۔اوّ۱ل ایک شخص اہل اللہ میں سے تھے۔راست باز۔صالح اور ثقہ امین ان کا نام عبد اللہ الغزنوی کرکے ہمارے ملک پنجاب میں مشہور ہے۔ہمارے امام علیہ السلام نے ان کو خاتم النبیین رسول رب العالمین نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی شکل پر رؤیا میں دیکھا ہے اور یہ بسبب ان کے کمال اتباع سنت کے تھا۔وہ بہت خوبیوں کے جامع اور علمی اور عملی حصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو خصوصیت سے ممتاز فرمایا ہوا تھا۔انہوں نے ابن حزم کے بارے میں توجہ کی کہ یہ بہت سخت الفاظ استعمال میں