نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 67

کے کلام وتکلیم پر کبھی مہر نہیں لگی۔پس جولوگ اس کو گُم صُم مانتے ہیں مثلاً برہموں اور نیچری اور جو لوگ کہتے ہیں تخمیناً یا قریباًدو ارب برس سے وہ خاموش ہے اور صرف چار ہی آدمیوں سے سرشٹی کے ابتدا میں بولاتھا یا جو کہتے ہیںکہ مسیح ؑ یا نبی کریم خاتم الانبیاء ﷺ تک بات کر کے اب خاموش ہے اور جن کا وہم ہے کہ بیج کی طرح بے اختیار ہے۔وہ کیوں پسند کرنے لگے؟ (۳) ہم مانتے ہیں کہ ملائکہ ہیں ان پر اور اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں اور رسولوں نبیوں پر ہمارا ایمان ہے۔ہم نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین رسول رب العالمین مانتے ہیں۔پھر ان باتوں کے مخالف کیوں پسند کرنے لگے۔(۴) ہمارے نزدیک ہر ایک شخص اپنے اعمال کا ذمہ وار اور جواب دہ ہے اور ہم عفو، مغفرت، شفاعت بالاذن کے معتقد ہیں۔پس ہماری باتوں سے کفّارہ کا قائل کب راضی ہو اور جو اللہ تعالیٰ کو (کھما)عفو والا نہ مانے وہ کیونکر راضی ہو؟ (۵) ہم صحابہ کرام اور تابعین عظام کو رضوان اللہ علیھم اجمعین۔ابو بکر وعمر سے لے کر معاویہ مغیرہ تک اویس قرنی وحسن بصری سے لے کر ابراہیم نخعی ونافع عکرمہ تک اور اہل بیت میں خدیجہ و عائشہ سے لے کر علی المرتضیٰ اور تمام ائمہ اہل بیت کو علیھم السلام ان سب کو بحمداللہ اپنا محبوب اور دل سے پیارا اعتقاد کرتے ہیں۔قال الامام امامنا علیہ السلام۔جان ودلم فدائے جمالِ محمد است خاکم نثار کوچہ آل محمدا ست پس رافضی۔شیعہ۔خارجی۔ناصبی۔جبریہ۔قدریہ۔مرجیہ۔جہمیہ۔معتزلہ۔تعامل اسلام کے منکر۔احادیث صحیحہ کے منکر اور ان کو تودہ طوفان کہنے والے کب پسند کرسکتے ہیں؟ حالانکہ وہ معمولی کتب تواریخ بلکہ امور تاریخیہ۔لغت وکتب بیان کو اپنا مقتدا بنائے ہوئے ہیں۔باایں کہ اختلاف روایات اور باہمی تعارض و تناقض وضعف و قوۃ کا تفرقہ ان میں بھی ہے اور یہ علوم بھی اب تک کسی ایک مجموعہ یاکتاب میں محدود نہیں۔قفٰی نبک جیسا مشہور و معروف قصیدہ صدہا اختلاف اپنے اندر رکھتا ہے اور صرف جیسا محدود علم کسی کے احاطہ میں نہیں اما اور نہ کوئی کتاب دعوی کرتی ہے کہ