نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 56
اللہ کی راہ میں انہی لوگوں سے جو تم سے لڑیں اور حد سے مت بڑھو۔اجازت دی جاتی ہے ان لوگوںکو جن سے جنگ کی جارہی ہے (کہ وہ بھی جنگ کریں)اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں اور یاد رکھیں کہ اللہ ان کی نصرت پر قادر ہے۔تم کیوں جنگ نہیں کرتے ان لوگوںسے جنہوں نے توڑ دیا اپنی قسموں کو عہد کرنے کے بعد اور پختہ ارادہ کر لیا رسول کے نکال دینے کا اور انہی لوگوں نے پہلی دفعہ تم سے جنگ کرنے میں ابتدا کی۔اب ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے احکام جنگ محض دفاعی اور خود حفاظتی کے طریق پرمبنی ہیں باوجود یکہ ظالم موذی حملہ آوروں اورا بتداء کرنے والوں کے مقابلہ میں دفاع کا حکم دیتا ہے اور وہ دشمن بھی وہ ہیں جو ناگفتنی ظلم کر چکے ہیں پھر بھی اپنی جماعت کو حکم دیتا ہے : یعنی دفاع میں بھی لحاظ رکھوکہ تم سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہوجائے اور پھر ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ اسلام کی کوئی جنگ دولت،ملک گیری اور خواہ نخواہ لوگوںکے پامال کرنے کے لئے واقع نہیں ہوئی۔کوئی آیت اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایسی نہیں جس میں ایسی زیادتی اور اعتدا کی ہدایت یا اجازت ہو۔کوئی رشید اور سعیدہے جو خدا ترس دل سے ان آیات طیبات کا مقابلہ کرے وید کی ان لڑائی کی ہدایتوں سے جو مذکور ہو چکی ہیں۔فقرہ ہفتم : حقوق نسواں میں آریہ اور اسلام کا مقابلہ : منو باب ۹۔شلوک ۱۹میں لکھا ہے’’بدفعلی ۱ـ؎ کرنا عورتوں کی عادت ہے۔یہ وید میں پہلے لکھا ہے۔‘‘ ’’عورت تدبیر نیک سے محفوظ ہو تاہم اپنی بداطواری وتلون و بے وفائی و عادات ان باتوں سے شوہر کو رنجیدہ کرتی ہے‘‘۔باب ۹ شلوک ۱۵۔’’عورتوں کی کریا منتروں سے نہیں ہے یہ دھرم میں داخل ہے۔اندری اور منتران دونوںسے عورت علیحدہ ہے۔دروغ کے مانند نامبارک ہے یہ شاسترکا حکم ہے‘‘۔منو باب ۹شلوک ۱۸۔’’اہل مطلب سفر کرنے سے پہلے عورت کے کھانے پینے کا قدیم ہندوستان کی عورتوں کا نقشہ ۱۲۔منہ۔۲۔عورت کھیت ہے