نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 327
سے قرآن کے مقطع الم کے الف پہلے حرف اور میم آخری کاحرف شاہد ہے۔اس شہادت پر بھی تم معترض ہی رہے۔افسوس !! نقلی جواب صحابہ کرام نے فرمایا ہے۔(دیکھ یہ وہی اصحاب الرسول ہیں جن کی نسبت تو نے بکواس کی ہے کہ اصحاب الرسو ل بھی زور لگا چکے مگر … ) ابن جریر۔معالم التنزیل۔ابن کثیر۔تفسیر کبیر۔درمنثور وغیرہ میں لکھا ہے علی المرتضیٰ، ابن مسعود اور ناس من اکثر اصحاب النبیاور ابن عباس کے نزدیک یہ تمام حروف جو سورتوں کے ابتداء میں آئے ہیںاسمائِ الہٰیہ کے پہلے اجزاء ہیں۔ابن جریر نے بہت بسط سے اِس بحث کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن کریم کھلی عربی میں ہے پس ممکن نہیں کہ اس میں ایسے الفاظ ہوں جو ہدایتِ عامہ کے لئے نہ ہوں پھر صحابہؓ و تابعین کی روایات کا بسط کیا ہے۔آخر کہا ہے کہ ان مقطّعات کو صحابہ کرامؓ نے اسماء الہٰیہ کا جزو مانا ہے اور بعض نے ان پر اسمائِ الہٰیّہ کا اطلاق کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ان سے قسم لی گئی ہے ان کو اسماء السور، اسماء القرآن، مفتاح القرآن بھی کہتے ہیں۔آخر مجاہد کی روایت لی ہے کہ یہ بامعنی الفاظ ہیں اور الربیع بن انس تابعی کا قول نقل کیا ہے کہ ان کے بہت معنی لینے چاہئیں اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسماء و افعال کے اجزاء ہیں۔بالآخر الربیع بن انس کی روایت پرکہا ہے کہ یہ سب معانی صحیح ہیں اور ان میں تطبیق دی ہے۔میں کہتا ہوں بات کیسی آسان ہے کیونکہ ان حروف کا اسمائِ الہٰیہ کی جزو ہونا تو قول حضرت علی المرتضیٰ علیہ السّلام کا ہے اور ابن مسعود اور بہت صحابہ اور ابن عبّاس کا، رضوان اﷲ علیہم اجمعین۔پس یہ معنے اصل ہوئے اور جن لوگوں نے کہا کہ یہ اسمائِ الہٰیہ ہیں انہوں نے اصل بات بیان کر دی کیونکہ آخر ان اسماء سے اسمائِ الہٰیہ ہی لئے گئے اور چونکہ اسماء الہٰیہ کے ساتھ قسم بھی ہوتی ہے اِس لئے یہ تیسرا قول بھی پہلا قول ہی ہوا۔پھر چونکہ سورتوں کے نام ان کے ابتدائی کلمات سے بھی لئے