نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 328
جاتے ہیں اِسی واسطے فاتحۃ الکتاب کو اور سورہ اِخلاص کوکہتے ہیںاور اِسی لئے یہ حروف مفاتح السور اور اسماء السور ہوئے اور چونکہ ہر ایک سورۃ کو قرآن کہتے ہیں جیسے آیا ہے (الجنّ :۲) اور فرمایا ہے (الاعراف :۲۵)۔اِس لئے بعض نے ان کو اسماء القرآن بھی کہا ہے۔پس مجاہد کا قول کہ یہ حروف موضوع ہیں معانی کے لئے۔اور ربیع بن انس کا یہ قول کہ ان کے بہت معانی ہیں درست و صحیح ہے اور یہ تمام اقوال پہلے قول کے موید ہیں اور انہی معنوں کے قریب بلکہ عین ہے وہ قول جو ابن جریر میں ہے کہ الٓم کے معنی اَنَا اللّٰہُ اَعْلَمُ ہیں۔پس جو معانی صحابہ کرامؓ نے کئے ہیں وہ بالکل صحیح ہوئے۔اوّل تو اس لئے کسی نے ان صحابہ کرامؓ پر اعتراض نہیں کیا۔نہ صحابہ ؓ نے اور نہ تابعین نے۔نہ پچھلے علماء نے اور اگر کسی نے ان کے علاوہ کہا ہے تو اس کا کہنا صحیح ہے جیسا ہم نے دکھایا ہے۔ابن جریر نے ان کل معانی بلکہ ان کے سوا اور معانی لے کر سب کو جمع کرنے کو بہت پسند کیا ہے اور اپنے طورپر ان کو جمع کر کے بھی دکھایا ہے۔ابن جریر کی یہ عبارت بڑی قابل قدر ہے جو آخر مقطّعات پر لکھی ہے اِنَّہٗ عَز ذِکْرِہٖ اَرَادَ بِلَفْظِہِ الدَّلَالَۃَ بِکُلِّ حَرْفٍ مِّنْہُ عَلٰی مَعَانٍ کِثَیْرَۃٍ لَا مَعْنَی وَاحِدٍ کَمَا قَالَ الرَّبِیْعُ بنْ اَنَسٍ وَ اِنَّ کَانَ الرَّبِیْعَ قَدْ اِقْتَصَرَ عَلٰی مَعَانٍ ثَلٰثۃٍ دُوْنَ مَازَادَ علیھا۔وَالصَّوَابُ فِیْ ذٰلِکَ عِنْدِیْ اَنَّ کُلَّ حَرْفٍ مِّنْہُ یَحْوِی مَا قَالَہُ الرَّبِیْعُ وَمَا قَالَہٗ سَائِرُ الْمُفَسِّرِیْنَ وَاسْتَثْنٰی شَیْئًا۔ربیع کے تین معنی یہ ہیں۔اوّلؔ الم میں الف سے اﷲ۔لام سے لطیف اور میم سے مجید۔دومؔ۔الف سے اﷲ تعالیٰ کے آلاء و انعامات اور لام سے اس کا لطف اور میم سے اس کا مجد پھر الف سے ایک لام سے تیس۔میم سے چالیس عدد۔ابن جریر کا منشاء یہ ہے کہ اگر کوئی اور معانی بھی لے لے ( جیسے کہا گیا ہے کہ الف سے قصہ آدم اور لام سے حالات بنی اسرائیل اور میم سے قصّہ ابراہیم مراد ہے) جب بھی درست ہے۔زمخشری اور بیضاوی نے علومِ قراء ت و صرف کے بڑے بڑے ابواب کا