نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 326
اپنے محکموں، ریلوں، سٹیشنوں کو بھی یہی ٹیکا لگایا ہے۔فارن آفس کی تمام تحریروں کا انہیں پر مدار ہے جو حکومت کی اصل کل ہے۔ڈی۔ای۔وی دیانندی کالج اس پہیلی سے زینت یافتہ ہے۔یونانی (ا) اغطس۔اگست۔ایلوس۔برس۔سال۔ایٹیکو۔پرانے وغیرہ پندرہ کلمات کے اختصار پر بولا کرتے تھے۔(ل) لوئیس۔لوکس جگہ کے معنی میں(م) مجسٹریٹ۔مانومنٹ بمعنے یادگار پر بولتے ہیں۔سوم۔تمہارے کیا تم تو غالباً دہریہ ہو بلکہ آریہ کے وید کے سر پر اور اس کے اندر اور تمہاری سندھیا ودہی کے سر پر اور اس کے اندر تمہارے منو شاستر کے ادھیا ۲شلوک ۷۵۔تمہاری گایتری کے سر پر۔تمہارے لیکچر کے ابتدا میں تمہارے عام لیکچروں کے ابتدا میں تمہارے دیاکہیانوں کتابوں کے سرے پر۔قرآنی صداقت کے لئے اوم کا لفظ جو آ۔اُ۔م کے مقطعات سے بنا ہے زور سے گواہی دیتا ہے کہ خبردار قرآن کریم پر ایسا اعتراض مت کرنا۔میرا لحاظ تو کرنا مگر (الانبیاء :۶۸) تم اس کے شنوا نہ ہوئے۔تمہاری ستیارتھ کا پہلا صفحہ اسی مقطعات کی تشریح میں سیاہ کیا گیا ہے مگر حیف کہ تم شنوا اور بینا نہ ہوئے۔تمہاری منو جی ادھیا دو کے شلوک ۷۶میں بول اٹھے کہ(۱)کار(اُ)اُکار(م)مکار ان تین الگ الگ اکھروں کو اور بہو۔بہواہ۔سواہ ان کو بھی برہما جی نے بیدوں سے نکالا۔مگر تم نے بجائے اس کے کہ اس سے سبق لیتے الٹا اس میں شرارت سے کام لیا اور جن کو ملیچھ کہتے تھے ان کی اتباع کی۔یہ ہیں الٰہی آیات اور معجزات اور یہ ہیں ثبوت تمہاری شرارت اور بے ایمانی کے۔لطیفہ۔اوم کے تیسرے حرف کانام مکار کے بدلہ میں آریہ نے اپنی سندہیا ودہی میں ما کا لفظ رکھا ہے حالانکہ ان کی زبان میں ما کا لفظ نہیں اور ستیارتھ پرکاش کے ترجمہ پرتی مذہبی میں (م) رکھا ہے جو اسلامی طرز کا لفظ ہے۔یہ ہے روزانہ مذہبی اصلاح جس کو تم ہر روز کرتے ہو۔دوسرا لطیفہ اوم کا پہلا لفظ اصل میں الف ہے اور ا ٓ خری لفظ میم ہے پس اوم کا سارا لفظ اپنے ابتدا اور انتہا