نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 303
اس کے پیدا کردہ اعضاء شہوت کے متعلق کیا یقین کریں کہ ہم غریبوں کویہ سامان حکیم خدا نے نعوذباللہ نادانی اورناعاقبت اندیشی سے دیا ہے۔سوال نمبر ۱۰۵۔ماموں چچاکی لڑکیاں بیاہ کرنا معیوب ہے کیونکہ بھائی بہن کا میاں بی بی بننا معیوب ہے۔الجواب۔تم لوگوں کے فضول لفظ اور دعویٰ ہی ہوتے ہیں۔ا س پر دلیل کیاکہ وہ معیوب ہیں اور بھائی بہن کا بیاہ ہیں۔کیاوید میں ممنوع ہے۔کیانیچر نے، عقل نے، کانشنس نے، تجربہ نے او ر بالآخر مشاہد ہ نے اس تعلق کو منع کیاہے۔ہمارے ضلع شاہ پور ہڈالی تحصیل خوشاب اور اس کے ارد گر بہت گائوں ہیں۔اروڑا قوم ہندو نے تمہارے اس غلط خیال اور اسلامی تعلیم کی حقیقت کو سمجھ کر چچااور ماموں جیسے قریب رشتوں میں شادیاں شروع کردی ہیں جیسے یورپ کی قوموں نے آخر مسئلہ طلاق کو اور مارمن قوم نے یورپ و امریکہ میں کثرت ازدواج کو قبول کرلیا۔سوال نمبر۱۰۶۔مسلمانوں کے لیے چار اور نبی کریم کے لیے زیادہ۔قانون کو مقنّن خود توڑتاہے۔الجواب۔تم نے سورہ احزاب کا حوالہ دیاہے۔میں نے سورہ احزاب کو پڑھا ہے۔وہاں ہرگز نہیں لکھا کہ نبی کریم عام مسلمانوں سے زیادہ کے ساتھ شادی کرلیں۔دوم۔اگر ایسا حکم سوائے سورہ احزاب کے قرآن کے باہر بھی ہو تب بھی موجب اعتراض نہیں۔اوّل تو اس لیے کہ تم ایسااعتراض پیش نہیں کرسکتے کیونکہ تمہارے ہاں نیوگ کے احکام میں لکھا ہے۔(۱۵۰) ستیارتھ کہ برہمن اپنی بی بی سے دوبیٹے اور دوسرے کی بیبیوں سے دودوبیٹے ان کے لئے۔پھر برہمن اپنی بی بی کے علاوہ اپنی برہمنی سے، کھترانی سے، ویشنی سے نیوگ کرے مگر کھتری برہمنی سے نہیں بلکہ کھترانی اور ویشنی سے اور ویش صرف ویشنی سے نیوگ کرسکتاہے۔