نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 302
اور یہ تو ظاہر ہے غریبی بھی تمہارے یہاں ایک نرک ہے ذراسوچو !پتر تمہارا آریہ مسافراور اس کے اوپر مہارشی دونوں بلاپتر مر گئے۔غوروتامل کرو! مخلوق میں حیوانات کو پھر خاص انسانوں میںہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مختلف القویٰ یعنی الگ الگ قویٰ کے پیدا ہوتے ہیں۔بعض کے قویٰ شہوانیہ قویٰ اور بعض کے بہت ضعیف ہواکرتے ہیں جس آیت کریمہ کا تم نے حوالہ دیاہے وہ آیت کریمہ یہ ہے۔ (النور :۳۳) یعنی اپنے میں سے بیوہ عورتوں اور قابل اور لائق لونڈیوں کا نکاح کردو اگر وہ مفلس ہوں اور اس خوف سے نکاح نہ کریں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔اس آیت کریمہ کے پہلے بدکاریوں سے بچنے کا وعظ ہے اور تاکید ہے کہ بدوں اجازت صاحب خانہ کسی کے گھر مت جائو۔اپنی نگاہیں نیچے رکھو۔پھر یہ حکم دیاہے کہ بے بیاہے مردوں اور عورتوں اور اپنے اچھے غلاموں داسوں اور لونڈیوں کا باذن ان کے والیوں کے بیاہ کردو۔دیکھ کیساپاک اصل ہے اور پاک حکم ہے کہ اپنے لڑکوں لڑکیوں کا بیاہ تو کرتے ہو۔داسوں اور داسیوں کے بیاہ بھی کردو نیز شرع اسلام میںغلاموں اور لونڈے کے لیے گھرمیں آنے جانے کی اجازت ہے او ر ان سے پردہ نہیں۔اب اگر ان کی شادی نہ کی جاوے توآخر گھروں میںبدکاریوں کے مرتکب ہوں گے۔پس ضرور ہوا کہ ان کی شادیاں کردی جاویں کیونکہ آخر وہ بھی ہمارے ہی بچے بچیاں ہیں اور بتایاہے کہ وہ قابل شادی ہوں اورشادی کی صلاحیت ان میں ہو تو ان کی شادی کرو۔علی العموم شادی شدہ انسا ن کاہل و سست نہیں رہ سکتا۔نیز تعلقات کے باعث اس کے اخلاق میں بہت اصلاح ہوجاتی ہے اور بی بی بچوںاور بیبیوں کے کنبہ اور تمام وسیع متعلقوں سے اسے بہت کچھ اخلاق سے کام لینا پڑے گا۔آخر تو بھی انسان ہے سوچ تو سہی غلام اور لونڈیاں اور بے بیاہے مرد اور عورت جن کو شہوت کے اسباب وہتھیار دئیے گئے ہیں غریبی کے باعث اگر بیاہ نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے اور