نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 296
کہ ایک چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں خیر کثیر رکھ دے۔پھر فرمایا ہے۔(النساء:۳۵) انہیں نصیحت کرو اور ان کی چارپائی الگ کر دو اور سزا دو اور اگر اس پر بھی باز نہ آئے تو عورت کے رشتہ دار اور مرد کے رشتہ دار دونوں کورٹ کرکے صلح کرا دیں جیسے فرمایا۔(النساء:۳۶) (یعنی حتی المقدور سمجھاؤ کبھی سرزنش سے ،کبھی الگ سونے سے ،اگر اس طرح بھی نہ سمجھیں تو جیسے مذکور ہوا) پھر مرد اور عورت کے رشتہ داروں سے حکم بلاؤ۔اس تدبیر کے موافق اگرعورت اور مردکا ارادہ اصلاح کاہو گا تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔اور یہ تمہارا اعتراض کہ’’ عورت طلاق نہ دے ‘‘کورانہ تعصب یا جہالت سے پیدا ہوا ہے۔اسلام نے عورت کو صاف اجازت دے دی ہے وہ بھی واقعات ضروری کے پیش آنے پر مرد سے طلاق لے سکتی ہے اسے اسلا م کی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں با این ہمہ خدا تعالیٰ کی کتاب فرماتی ہے۔(البقرۃ:۲۲۹) اور عورتوں کے حقوق کی رعایت مردوںکے ذمہ ویسی ہے جیسی کہ عورتوں پر مردوں کے حقوق کی۔ہم نے تمام دنیا کے قوانین اور آسمانی کتابوں میں وہ آزادی اور حقوق عورتوں کے نہیں دیکھے جو قرآن کریم میں بیان کئے ہیں اور ہندوؤں کے قوانین تو سن ہی چکے ہو اب فیصلہ کرو کہ قدرتی اور سچی مساوات کہاں ہے؟ سوال نمبر ۱۰۱۔مرد ایک وقت میں دودو ،تین تین،چار چار کرے اورعورتیں ایک ہی وقت میں دو دو،تین تین ،چار چار خاوند کیوں نہ کریں؟ الجواب: غالباً عقل مند بی۔اے کی مراد ایک وقت سے ایک دو منٹ تو نہیں ہو گی۔ہم فرض