نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 297

کرتے ہیںکہ مثلاًایک مہینہ ایک برس یا تین برس مراد ہو گی مگر تم ہی بتاؤ کہ ایک عورت ایک وقت میں ایک مرد کابچہ تو پیٹ میں رکھ سکتی ہے۔تو کیا بہت سارے مردوں کا بیرج (منی) نطفہ بھی اسی پیٹ میں رکھ کر بچہ دے سکتی ہے ؟اگر تم بلاواسطہ اس مشکل کو حل نہ کر سکو تو آریہ سماج کے لائق استریوں سے یہ مسئلہ دریافت کر لو۔اب رہی یہ بات کہ مرد ایک وقت میں کس قدر عورتوںمیں اپنا بیج ڈال سکتا ہے تو یہ بڑی بدیہی اور مشاہدہ کی بات ہے۔زمانہ میں یہ نظارہ نظر آ رہا ہے عورتوں کا مکان مردوں کی کثرت کا مقتضی نہیں۔قدرت نے ایسا نہیں بنایا اس واسطے ’’کیوں نہ کریں ‘‘کا جواب ہے کہ نہ کریںکیوںکہ قانون الٰہی اجازت نہیں دیتا اور قانون قدرت کی عدم اجازت سے منہ پھیر کر اس کی نہی پر اقدام کرنے والاآتشک اور ایسی طرح طرح کی لعنتوںمیںگرفتار ہوتا ہے۔تعدّد ازواج بے وجہ جائز نہیں۔اصل سبب تعدّد ازواج کابد کاریوں سے بچنا ہے۔جو لوگ بحثوں میں تعدّد ازواج کے مخالف ہیں وہ اندرونی خو اہشات او ر افعال کا مطالعہ فرماویں۔صرف کمزور ،جلق کے عادی ،مخنث طبع اور عدیم الفرصت لوگ اس فکر سے مستثنیٰ ہیں۔جس قوم نے زبان سے تعدّد ازواج کا انکار کیا ہے وہ عملی طور پر ناجائزاور ناپاک تعدّدازواج یعنی زناکاری میںمبتلا ہوئے ہیں۔ان کی خواہشوںکی وسعت اوردست درازی نے ایک عورت پر قناعت نہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ فطرت میںتعدّد اور تنوّع کی آرزو ضرور ہے۔خدا تعالیٰ کے قانون کا یہ مقتضاء ہونا چاہیے کہ وہ انسان کی وسیع خواہشوںاور اندرونی میلانوں پر مطلع اور حاوی ہو کر ایسی ترتیب اور طرزپر واقع ہو کہ مختلف جذبات والی طبائع کو بھی تقویٰ اور طہارت کے دائرہ میں محدود رکھے۔ستیارتھ کے صفحہ۱۲۰میںلکھا ہے ’’جب مہینہ بھر میںحیض نہ آنے سے حمل کے ٹھہر نے کا یقین ہو جائے تب سے ایک برس تک عورت مرد ہم بستر کبھی نہ ہوں‘‘۔انصاف کے لیے میںتمام آریہ سماج اور ناظرین کتاب کے حضور میںاپیل کرتا ہوں کہ یہ عمل درآمد عام خلقت کا ہے اور جن کی بیبیاںحمل کے بعد حمل میںرہتی ہیںوہ دو تین سال صرف دو تین بار جماع کر کے تندرست ،قوی المزاج مجرد رہ کر متقی بنے رہ سکتے ہیں؟