نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 295

میاں بیوی دونوں شرارت کا ارتکاب کریں تو دونوں کو سزا دو اور اگر شرارت کرنے سے باز آجاویں اور سنوار کر لیں تو ان سے اعراض کر لو۔اگر یہ حکم خاوند کا تجویز کریں جیسے تم کہتے ہو تو پھر خاوند کیا خود اپنے آپ کو سزا دے گا ؟ احمقوں کے اکثر کام حماقت کے ہی ہوتے ہیں تو سنو! یہ احکام سلطنت کے متعلق ہیں جن کو سزاؤں کا اختیار ہوتا ہے اور وہی امر فامسکو ھن کے مخاطب ہیں اس کے معنی ہیں بند کر و۔اب ہم تمہیں تمہارے گھر سے پتہ دیں جس با ت پر تو نے اعتراض کیا وہ بعینہٖ لفظ بہ لفظ تمہارے گھر میں موجود ہے۔منو ادھیائے ۹ شلوک نمبر ۸۲ص ۳۴۲۔جس عورت کے اوپر دوسر اوواہ شوہر نے کیا اور وہ عورت غصہ ہو کر گھر سے نکلی جاتی ہوتو اس کو روک کر گھر میں رکھنا خواہ خاندان کی روڑہ ترک کرنا چاہے اور منو ۹۔۷ میں ہے عورت کی حفاظت کرنے سے اپنے خاندان و اولاد و اتحاد و دھرم وغیرہ کی حفاظت ہوتی ہے پس جو اعتراض تم نے کیا ہے بعینہٖ وہ تمہارے منو شاستر پر آتا ہے۔رات دن عورتوں کو شوہر وغیرہ کے وسیلہ سے بے اختیار کرنا مناسب ہے جو عورت بشیون میں لگی ہے اس کو اختیار میں رکھنا چاہئے۔منو ادھیا۹۔۲۔عورتوں کو مشورے سے الگ رکھے۔منو ۷۔۱۴۹۔سوال نمبر۱۰۰۔طلاق پر اعتراض عورت بد صورت ہو لڑکیاں پیدا کرے ،خراب ہو تو مرد طلاق دے اور اگر مرد بد صورت ہو ،لڑکیاں پیدا کرے ،خراب ہو تو عورت طلاق نہ دے۔الجواب: عورت کو پسند کرکے بیاہ کرنا شرع اسلام کا حکم ہے اور پھر ایک ایسا حکم ہے کہ تمہاری کسی کتاب میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی کتاب اور قانون نے ایسی سفارش مردوںکو کی ہے جیسی قرآن کریم نے عورتوں کی بہتری کے لئے فرمائی ہے۔ (النساء:۲۰) ترجمہ۔اور تم عورتوں سے اچھی طرح برتاؤ کرو پس اگر تمہیں بری لگیں تو سمجھ لو کہ ہو سکتا ہے