نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 259

سے پہلے مجھے ضروری معلوم ہوتاہے کہ چند ایسے صاف اور بدیہی امور کوبیان کردوں جن کے ملحوظ رکھنے سے آیات نمبر۲ اور نمبر۳کے فہم میں بہت سہولت ہو کیونکہ اس سوال پر آج کل بہت زور دیا جاتا ہے اور عام کالجوں کے لڑکے اور وہاں سے نکل کر بڑے عہدوں پر ممتاز اور ان کے ہم صحبت ایسی باتوں پر بہت تمسخر کرتے ہیں۔پس چند امور بدیہی کابیان کرنا ضروری معلوم ہوا۔اوّل۔مناظر قدرت کو دیکھنے والے مختلف الاستعداد لوگ ہوا کرتے ہیں مثلاً دوسرے کی آنکھوں کو ایک بچہ بھی دیکھتا ہے جو مصنوعی اور اصلی آنکھ میں تمیز نہیں کر سکتا۔پھر ایک عقل مند بھی دیکھتاہے گو وہ اصلی اور مصنوعی میں فرق کر لیتا ہے مگر آنکھ کے ا مراض سے واقف نہیں ہوسکتا اور نہ اس کی خوبیوں اور نقصانوں سے آگاہ ہوتا ہے پھر شاعر دیکھتا ہے جو اس کے حسن و قبح پر سینکڑوں شعر لکھ مارتاہے۔پھر طبیب وڈاکٹر دیکھتا ہے جو اس کی بناوٹ اور امراض پر صدہا ورق لکھ دیتا ہے۔پھر موجد ین دیکھتے ہیں جیسے فوٹو گرافی کے موجد نے دیکھا اور دیکھ کر فوٹو گرافی جیسی مفید ایجادیں کیں۔پھر اس کے اور وہ بہائی دیکھتے ہیں جنہوں نے عجیب درعجیب ٹیلس کوپ وغیرہ ایجاد کئے۔پھر ان سے بالاتر صوفی دیکھتا ہے اوراس سے بھی اوپر انبیاء ورسل دیکھتے ہیں اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر اللہ کریم دیکھتا ہے۔غرض اسی طرح پر ہزاروں ہزار نظارہ ہائے قدرت ہیں اور ان کے دیکھنے والے الگ الگ نتیجے نکالتے ہیں۔اب ہم شہاب ثاقبوں کے متعلق لکھتے ہیں۔شہاب وہ چیزیں ہیں جنہیں انگریزی میں میٹارز کہتے ہیں۔یہ توبچہ عامی۔شاعر۔حکیم سب یکساں دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ شہب گاہے گاہ نظر آتے ہیں اس سے توکوئی انکار نہیں کر سکتا۔اب یہ بات کہ کیوں گرتے ہیں؟ اس پر خدا داد عقل والے بھی غور کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ کیوں گرتے ہیں اور نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کاکوئی کام لغو اور بے حکمت نہیں ہوتا اس لئے ہم میٹارز کے متعلق عامیوں کے بے فائدہ نظارہ کو چھوڑ کر پہلے حکماء کا نظارہ بیان کرتے ہیں۔